اسلام آباد: دفتر خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان نے غزہ بورڈ آف پیس میں شرکت کی امریکی دعوت قبول کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے غزہ میں دیرپا امن کے حصول کے لیے تشکیل دیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کرلی ہے۔ یہ دعوت امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دی گئی تھی۔
ترکیہ
ترکیہ نے عالمی “بورڈ آف پیس” میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حکان فدان ڈیووس میں “بورڈ آف پیس” اجلاس میں ترکیہ کی نمائندگی کریں گے۔
ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے کہا کہ عالمی امن کے لیے ترکیہ کا فعال سفارتی کردار ہے، ڈیووس فورم میں امن و استحکام پر اہم مشاورت متوقع ہے۔
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت
پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ پہلے بھی کئی ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے اور مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ اس کے اہم مقاصد درجہ ذیل ہیں –
1.اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرادادوں کے مطابق غزہ کے مسئلے کا مستقل حل –
2.مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو-
3.غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے بعد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ، ایک الگ ریاست کا قیام اور فلسطین کے مسلمانوں کی حق خودارادیت –
4.خطے میں پائیدار امن کی بحالی –
بورڈ آف پیس میں شمولیت کی تاریخی اہمیت اور ضرورت
1.یہ قدم اہم اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں رونما ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے –
2.پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے-
3.دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور دھڑے بندیوں(Blocs) کی وجہ سے کثیر اُلجہتی Platforms میں پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے –
4.پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقت ور Power Centres جیسے کہ امریکہ ، چین ، روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے – اس انفرادیت کے پیش نظر پاکستان کا کردار مختلف Blocs میں بٹی دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے –
پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی اہمیت
1.پاکستان Bloc Politics کا حصہ نہ ہوتے ہوئے تمام بین الاقوامی stakeholders کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے اپنی تزویراتی خودمختاری کے حصول میں مدد دیتا ہے –
2.پاکستان نے ہمیشہ غیر جانب دارانہ Foreign Policy کے ذریعے ایک توازن اور لچکدار خارجہ پالیسی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے –
3.پاکستان نے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے چین ، ہندوستان ، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کیے اور ان معاملات میں اپنے اصولی مؤقف کو ہمیشہ مد نظر رکھا –
4.ہندوستان کے معاملے میں پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے باوجود ایک با اصول اور غیر لچکدار پالیسی اختیار کی –
5.پاکستان نے غزہ اور کشمیر کے تنازعات پر بھی تسلسل سے ایک اصولی مؤقف اپنایا – اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ، اس سے جڑے تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل- بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام ، القدس الشریف کا ایک آزاد فلسطین ریاست کا بطور دارالحکومت کا قیام ، پاکستان کے وہ اصولی مؤقف ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر متزلزل رہی ہے –
6.اِسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور اس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا “جزو لا ینفک” رہا ہے –
7.دنیا کو درپیش تقسیم کے رجحان کے تناظر میں وجود میں آنے والے نئے Forums کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی Relevance کی بقا کے لیے خطرناک ہے –
8.اسلامی دنیا کی اہم ترین عسکری طاقت کے حامل ملک کے لئے ایسے Forums سے صرف نظر کرنا تزویراتی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے –
9.دور حاضر میں پاکستان نے اپنی ساکھ بین الاقوامی معاملات میں ایک مثبت شراکت سے برقرار رکھی ہے – اقوام متحدہ کی بحالی امن فوج میں شمولیت اس کی ایک اہم مثال ہے –
10.پاکستان لفاظی پر نہیں بلکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لئے متحرک رہا ہے –
11.پاکستان کو خاموش تماشائی دیکھنے کے متمنی ایک مفلوج ذہن کے تابع ہیں – ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کے محور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہے ہیں ، پاکستان کا متحرک کردار ایک تزویراتی ضرورت بن کر ابھرا ہے اور اس کردار کو نظر انداز کرنا ہمارے قومی مفادات سے تصادم ہے –
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) اور بورڈ آف پیس کا تقابلی جائزہ
1.حکومت پاکستان نے ISF میں شمولیت سے متعلق ایک واضح اور غیر مُبہم نقطہ نظر اپنایا ہے جس کی توثیق حکومت نے کئی دفعہ کی ہے –
2.آئی ایس ایف (ISF) میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد ، اقوام متحدہ کے mandate ، پاکستان اور فلسطین کی عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہوگا –
3.بورڈ آف پیس اور ISF میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے ایک گمراہ کن کوشش کا تسلسل ہے –
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos