دنیا پانی کے بحران سے آگے بڑھ کر آبی دیوالیہ پن مرحلے میں داخل ہوگئی ۔ اقوام متحدہ

 

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں پانی کے مسائل کو اب محض بحرانی کیفیت نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے عالمگیر آبی دیوالیہ پن کہنا بے جا نہ ہو گا۔اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کے ادارہ برائے پانی، ماحول و صحت کے ڈائریکٹر کاوہ مدنی نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں یہی صورتحال ہے۔ یہ کہنے کا مقصد امید ختم کرنا نہیں بلکہ عمل کی حوصلہ افزائی اور آج کی ناکامیوں کا ایماندارانہ اعتراف ہے تاکہ کل کو محفوظ اور ممکن بنایا جا سکے۔

 

کاوہ مدنی کے مطابق ،اس کے باوجود امید کی گنجائش باقی ہے۔ انہوں نے پانی کے مسئلے کا موازنہ مالیاتی نظام سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیوالیہ پن کسی عمل کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک منظم بحالی منصوبے کا آغاز ہوتا ہے جس میں پہلے نقصان کو روکا جاتا ہے، بنیادی خدمات کا تحفظ کیا جاتا ہے، ناقابل عمل دعووں کی ازسرنو تشکیل کی جاتی ہے اور پھر تعمیرنو میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

 

رپورٹ کے نتائج عالمی سطح پر مکمل ناکامی کی نشاندہی نہیں کرتے، تاہم دنیا میں ایسے آبی نظام بڑی تعداد میں موجود ہیں جو دیوالیہ پن کا شکار ہو چکے ہیں یا ہونے کو ہیں۔ چونکہ یہ نظام تجارت، نقل مکانی اور جغرافیائی سیاست کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسی لیے عالمگیر خطرات کا منظرنامہ بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔اس بوجھ کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے کسانوں، مقامی و دیسی برادریوں، کم آمدنی والے شہریوں، اور خواتین و نوجوانوں پر پڑ رہا ہے جبکہ پانی کے بے دریغ استعمال کے فوائد عموما طاقتور طبقوں کو حاصل ہوتے رہے ہیں۔

 

رپورٹ میں آبی دیوالیہ پن کو ایک ایسی کیفیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں دیوالیہ پن اور ناقابل واپسی نقصان شامل ہیں۔دیوالیہ پن سے مراد یہ ہے کہ پانی کو قابل تجدید وسائل سے زیادہ مقدار میں نکالا جا رہا ہو یا اسے محفوظ حد سے زیادہ آلودہ کیا جا رہا ہو۔ناقابل واپسی نقصان سے مراد آبی نظام سے جڑے قدرتی سرمائے جیسا کہ جھیلوں اور دلدلی علاقوں کو پہنچنے والا ایسا نقصان ہے جس کے بعد نظام کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا ممکن نہیں رہتا۔

 

رپورٹ کے مطابق، دنیا اپنے آبی ذخائر تیزی سے خرچ کر رہی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل سے اب تک نصف سے زیادہ بڑی جھیلوں میں پانی کی سطح کم ہو چکی ہے جبکہ 1970 کے بعد سے قدرتی دلدلی علاقوں کا تقریبا 35 فیصد حصہ باقی نہیں رہا۔

 

اس صورتحال کے انسانی اثرات پہلے ہی شدید ہیں۔ دنیا کی تقریبا تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جنہیں آبی عدم تحفظ یا شدید آبی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ ہر سال تقریبا چار ارب افراد کم از کم ایک مہینے کے لیے پانی کی شدید قلت جھیلتے ہیں جبکہ خشک سالی کے اثرات سے اندازا 307 ارب ڈالر کا سالانہ معاشی نقصان ہوتا ہے۔

 

مدنی نے خبردار کیا ہے کہ ان ناکامیوں کو محض عارضی بحران سمجھ کر قلیل المدتی حل تلاش کیے جاتے رہے تو ماحولیاتی نقصان مزید شدت اختیار کر جائے گا اور سماجی تصادم کو ہوا ملے گی۔

 

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اب بحران سے نمٹنے کے بجائے دیوالیہ پن کو سنبھالنے کی جانب منتقل ہونا ہو گا۔ ایسی پالیسیاں اپنانا ہوں گی جو ناقابل واپسی نقصانات کے حوالے سے دیانت دارانہ ہوں، باقی ماندہ آبی وسائل کا تحفظ کریں اور موجودہ آبی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔

 

سائنس دان، پالیسی ساز اور ذرائع ابلاغ کئی دہائیوں سے آبی بحران کے بارے میں خبردار کرتے چلے آئے ہیں۔ یہ اصطلاح ایک ایسے عارضی دھچکے کی نشاندہی کرتی تھی جس کے بعد بحالی بھی ممکن تھی۔ لیکن، اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اب دنیا کے کئی خطوں میں جو صورتحال سامنے آ رہی ہے وہ مستقل آبی قلت کی صورتحال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبی نظام اپنی تاریخی حالت میں واپس لوٹنے کے قابل نہیں رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔