لاہور کے علاقے بھیکے وال میں شیرنی کے حملے سے کمسن بچی زخمی ہونے کے بعد کریک ڈائون میں،غیرقانونی طورپررکھے گئے 11 درندے برآمد ہوگئے۔
تھانہ اقبال ٹاون پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب کچھ افراد ایک شیرنی کو لوڈر رکشے میں لے کر جا رہے تھے کہ بھیکے وال کے بازار میں رش دیکھ کردرندے نے بے قابو ہو کر وہاںموجود لوگوں پر حملہ کردیا۔مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے بازار میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔
پولیس کے مطابق بلاول اور شجاعت نامی دو ملزمان رکشہ سے پالتو شیرنی کو اتار رہے تھے کہ اسی دوران شیرنی بپھر گئی اور راہگیر بچی پر حملہ کر دیا ۔
مقامی پولیس کے مطابق8سالہ بچی جو دکان سے کھانے پینے کی چیزیں لینے کے لیے گھر سے نکلی تھی،شیرنی کے حملے کی زد میں آ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے سے بچی کی گردن اور اس کے دونوں کانوں کے اردگرد زخم آئے ہیں۔زخمی بچی کے والد خضر عباس کا کہنا ہے کہ اب ان کی بیٹی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔انھوں نے میڈیاکو بتایا کہ یہ شیر علاقے کی با اثر سیاسی شخصیت کی ملکیت ہیں جس کی وجہ سے اہل محلہ ان کی شکایت درج کرانے سے ڈرتے ہیں۔خضرعباس کے مطابق اس واقعے کے بعد انہی افراد نے جو شیرنی کے ساتھ تھے، اسےقابو کیا اور لوڈر رکشے میں دوبارہ سوار کر کے فرار ہو گئے۔
مزید پڑھیں: لاہورمیں پالتو شیرنی کے حملے کے نتیجے میں 8 سالہ بچی زخمی
شیرنی کے بچی پر حملے کا واقعہ پیش آنے کے بعدایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمر کی سرکردگی میں پویس نے کریک ڈائون کرکے غیرقانونی رکھے گئے مزید 11 شیر برآمد کیے اور ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اورشیروں کے 3بچے شامل ہیں،ان شیروں کو نواں کوٹ کے علاقہ میں فیکٹری میں رکھا گیا تھا۔فیکٹری کے نیچے ایمبرائیڈری کا کام ہوتاہے، فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے تھے۔
ذرائع کا بتاناہے کہ شیروں کو چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور شفٹ کیا گیا تھا، ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے شیروں کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا گیا، ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔
وائلڈلائف رینجرز کی طرف سے تحقیقات جاری ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ ملزمان نے شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالی، ملزمان نے جانوروں کی زندگی کو بھی خطرے سے دوچار کیا، قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos