گل پلازہ کوگراکر دوبارہ تعمیر کرنے،متاثرہ تاجروں کے لیے پیکج کا اعلان

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کو گراکر دوبارہ تعمیرکرنے کا اعلان کیاہے، 2 سال میں تعمیر مکمل ہوگی۔سندھ اسمبلی کے اجلا س میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں۔گل پلازہ میں ہر دکان کے مالک کو 5 لاکھ روپے فوری طور پر دیں گے۔یہ رقم دکانداروں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کےلیے ہے۔دکانداروں کو متبادل جگہ دینے کےلیے دو عمارتیں دیکھی ہیں۔ایک عمارت میں 500 اور دوسری میں 350 دکانیں موجود ہیں۔عمارت کے مالکان نے کہا کہ وہ ایک سال تک کوئی کرایہ نہیں لیں گے۔ہمارے پاس پارکنگ پلازہ سمیت کئی عمارتیں ہیں، اگلے دو ماہ میں دکانیں دے دیں گے۔کوشش ہوگی کہ دو سال تک یہ دکانیں مفت میں دی جائیں۔

اس کے علاوہ سندھ انٹرپرائز لیمٹڈ سے متاثرین کےلیے قرضے کی بات کی ہے۔ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا قرضہ دیا جائے، ضمانت حکومت سندھ دے گی۔ایک کروڑ روپے کے قرضے کا سود حکومت سندھ دے گی۔گل پلازہ کی جگہ اتنی ہی دکانیں بنیں گی جتنی اب تھیں، ایک دکان زیادہ نہیں بنے گی۔ نقصانات کا ازالہ کرنے کےلیے تاجروں کی کمیٹی بنادی ہے۔اس سانحے پر ہم نے کچھ مزید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گل پلازہ میں ہر دکان کے مالک کو 5 لاکھ روپے فوری طور پر دیں گے۔

مرادعلی شاہ نے کہاکہ سانحہ گل پلازہ کے پہلے دن ہی ہم نے لواحقین کےلیے معاوضے کا اعلان کیا اگرچہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔یہ پیسے ریلیز ہو چکے ہیں اور کمشنر سے کہا ہےکہ لواحقین کی شناخت کرکے پیسے حوالے کریں۔کراچی چیمبر کو نقصان کا پتہ چلانے کے لیے کہا ہے۔سانحہ کی آڑ میں18 ویں ترمیم کے خلاف خفیہ ایجنڈا چلایا جا رہا ہے۔یہ چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہے۔انکوائری رپورٹ آ جائے تو ایف ائی آر کا اندراج ہوگا۔۔تمام عمارتوں کا آڈٹ ہوگا فالٹ لائن چیک کریں گے کوئی بھی نشاندہی کرے۔

وزیراعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں کل 88 افراد لاپتہ تھے، ایک زندہ نکلا اور 5 نام ڈبل ہوگئے تھے،اس طرح،کل 82 لاپتہ تھے۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ 61 لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں،اب تک 15 افراد لاپتہ ہیں۔61 میں سے 9 افراد کی ڈی این اے سے شناخت ہوگئی ہے، 15 شناخت ہوچکے ہیں۔45 لاشوں کا ڈی این اے ہوچکا ہے، 9 کا باقی ہے۔وزیراعلیٰ نے خطاب میں کہا کہ اس واقعے نے پورے ملک کو غمگین کردیا ہے۔کئی معصوم لوگ اس آگ کی وجہ سے زندگیاں گنوا بیٹھے۔ہر طرف سوگ کی کیفیت ہے۔ایسا سانحہ ہے جس کو بیان کرنے کےلیے الفاظ نہیں۔شہدا کی بلندی درجات،لواحقین کےلیےناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے اورزخمیوں کو جلد سے جلد صحت یاب ہونے کی دعا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ واقعے کی وجوہات اور اس پر ردعمل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔آگے ہمارا کیا پلان ہے اس پر بھی بات ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 10 بج کر 14 منٹ پر گرائونڈ فلورکی دکان میں آگ لگی۔10 بج کر 26 منٹ پر پہلی کال آئی اور 10 بج کر 27 منٹ پر سول اسپتال فائر اسٹیشن سے پہلا فائر ٹینڈر ڈسپیچ ہوا۔ اس کے بعد مزید گاڑیاں آتی گئیں، ڈبل ون ڈبل ٹو کو پہلی کال 10 بج کر 36 منٹ پر ہوئی اور 10 بج کر 37 منٹ پر گاڑی روانہ ہوگئی۔آگ لگنے کے 16 منٹ بعد حکومتی نمائندہ ڈپٹی کمشنر وہاں موجود تھا، پولیس بھی موجود تھی۔

مرادعلی شاہ نے کہا کہ کچھ لوگوں کو منع کیا گیا کہ نہ آئیں لیکن پھر وہ بڑے جتھے کے ساتھ آئے،فون پر کہا گیا کہ اس وقت نہ آیا جائے لیکن ضد کی گئی کہ ہم ٹی پر دکھانے کےلیے آئیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ غفلتیں اور کوتاہیاں ہیں ، ان کا سدباب کریں گے۔کون سی گاڑی کب آئی یہ سب تفصیلات ہیں لیکن اب نہیں بتانا چاہتا، یہ انکوائری میں سامنے آ جائےگا۔پیپلزپارٹی کے دور میں آتشزدگی کے 3 بڑے واقعات ہوئے ہیں۔پہلے واقعے میں صدر زرداری تھے، انہوں نے متاثرین کی مدد کی اور تمام افراد اپنے پاوں پر کھڑے ہوئے۔ٹمبر مارکیٹ کے واقعے میں سندھ حکومت نے مدد کی تھی۔کوآپریٹو مارکیٹ کے متاثرین کو کراچی چیمبر کی سفارش پر متاثرین کی مدد کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔