سانحہ کی آڑ میں18 ویں ترمیم کے خلاف خفیہ ایجنڈا چلایا جا رہا ہے ، فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
سانحہ کی آڑ میں18 ویں ترمیم کے خلاف خفیہ ایجنڈا چلایا جا رہا ہے ، فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

سانحہ گل پلازہ، سارا گند18 ویں ترمیم سے پہلے کا ہے، مرادعلی شاہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے سانحہ گل پلازہ پرپالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہےکہ ایک سانحے پر 18ویں ترمیم اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں شروع ہوگئیں۔

سندھ اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ 1979 میں کے بی سی اے کو اس جگہ پر بلڈنگ بنانے کی درخواست ملی۔سیل ڈیڈ 1983 میں منظور ہوئی، اس وقت اقتدار میں کون تھا، یہ جان لیں۔80 کی دہائی میں بلڈنگ مکمل ہوئی۔1884 میں 99 سال کی لیز پر دی گئی تھی، 1983 میں لیز پوری ہوگئی تھی۔

وزیراعلیٰ کا کہناہےکہ 8 سال بعد 1991 میں لیز رینیو کی گئی۔لیز 1991 میں اس وقت کے میئر نے منظور کی۔اوریجنل پلان میں بیسمنٹ اور دو فلور تھے۔1998 میں کے بی سی اے کو تیسرا فلو ڈالنے کی درخواست دی گئی۔2001 میں ایک آرڈیننس آتا ہے کہ عمارتوں میں بےضابطگیوں کو ریگولرائز کردیا گیا۔2003 میں گل پلازہ کی تمام بےضابطگیوں کو ریگولرائز کردیا گیا۔یہ سب گند اٹھارھویں ترمیم سے پہلے کیا گیا۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ اس وقت بات سانحے کی ہو رہی ہے اور کوئی شخص کہے کہ اٹھارھویں ترمیم کی وجہ سے ہوا ہے۔

مرادعلی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اٹھارھویں ترمیم سےپہلے کون یہ بےضابطگیاں منظو کر رہا تھا،ایسے سانحے کو سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا ایک جرم ہے۔لوگوں کی لاشوں پر اپنا خفیہ ایجنڈہ لے آنا کہ اس پر اور بحث شروع ہو جائے۔اٹھارھویں ترمیم سے کیا فرق پڑا۔سانحہ کی آڑ میں18 ویں ترمیم کے خلاف خفیہ ایجنڈا چلایا جا رہا ہے۔یہ چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔