ٹرمپ کی نیٹو پر پھبتی۔کیا یورپ اور امریکہ کے راستے جداہوچکے ہیں؟

 

امریکی صدرٹرمپ کی طرف سے نیٹو فوج کے بارے میں ریمارکس نے،نہ صرف اتحادیوں کو بھڑکادیاہے۔بلکہ امریکی میڈیانے بھی انہیں سفید جھوٹ قراردے دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سوال کیا کہ اگر امریکہ کو کبھی ان کی ضرورت پڑی تو کیا نیٹو کے اتحادی مددکے لیے آئیں گے، اس کے ساتھ انہو ںنے پھبتی کسی کہ اتحاد کے فوجی افغانستان میں ہمیشہ اگلی صفوں سے پیچھے رہے ۔

ٹرمپ کا کہناتھاکہ میں نے ہمیشہ کہا ہےکیا وہ وہاں ہوں گے، اگر ہمیں کبھی ان کی ضرورت ہو؟ اور یہ واقعی ایک امتحان ہےمجھے اس کا یقین نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ہم ان کی مددکرتے، یا ہم کریں گے، لیکن کیا وہ ایسا کریں گے؟ ڈیووس میں فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ ہمیں ان کی کبھی ضرورت نہیں رہی۔ ہم نے واقعی ان سے کبھی نہیں کہا۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے، یا یہ یا وہ۔ لیکن وہاں وہ تھوڑا پیچھے رہے، اگلی صفوں سے تھوڑا دور۔

امریکی میڈیانے ٹرمپ کے اس دعوے کو بے بنیادقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ،اگرچہ امریکہ نے افغانستان میں نیٹو کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ فوجیوں کو کھو یا ، لیکن کچھ یورپی ممالک نے، جن کی آبادی امریکہ سے بہت کم ہے، نسبتاً زیادہ جانی نقصان اٹھایا۔اس تنازع میں 3500 کے قریب اتحادی فوجی مارے گئے تھےجن میں سے 2456 امریکی اور 457 برطانوی تھے۔بالکل ابتدامیں تقریباً50 لاکھ آبادی کے ملک ڈنمارک نے 40 سے زیادہ فوجیوں کو کھودیا تھا۔اس فورس کو جنوبی صوبہ ہلمند بھیجا گیا تھا جو طالبان کا گڑھ ہے -یہ دستہ ابتدائی طور پر زیادہ تر برطانوی اور ڈینش فوجیوں پر مشتمل تھا، ا2008 میں امریکی کمک آنے تک ہلمند میں زیادہ تربرطانیہ اور ڈنمارک جانی نقصان اٹھاتے رہے تھے۔

رواں سال کی ابتدا سے ہی، ٹرمپ نے بارہا نیٹو کی امریکہ کی حمایت پر آمادگی پر سوال اٹھایا ہے۔انہوں نے قبل ازیں 7جنوری کو کہا تھاکہ مجھے شک ہے اگر ہمیں واقعی ان کی ضرورت پڑی تو کیانیٹو ہمارے لیے موجود ہو گا،ہم ہمیشہ نیٹو کے لیے موجود رہیں گے، چاہے وہ ہمارے لیے نہ ہوں۔

فاکس نیوز پر ٹرمپ کے تبصرے سے پہلے، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے صدر کی جانب سے امریکہ کی حمایت کے لیے اتحاد پرشکوک وشبہات کو مستردکیا تھا۔
ایک بات جو میں نے آپ کو کل اور آج کہتے ہوئے سنی آپ کو قطعی طور پر یقین نہیں تھا کہ اگر آپ پر حملہ کیا جائے گا تو یورپی امریکہ کو بچانے کے لیے آئیں گے،روٹے نےڈیووس میں ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے کہا۔میں آپ کو بتاتا ہوں ، وہ کریں گے۔ اورجیسا کہ آپ جانتے ہیں انہوں نے افغانستان میں کیا۔ہر دو امریکیوں کے متوازی نیٹو کے کسی دوسرے ملک کا ایک فوجی تھا جو اپنے خاندان کے پاس واپس نہیں آیایہ اہم ہے۔ یہ مجھے تکلیف دیتا ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کا کہناہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر ارکان بھی افغانستان میں نیٹو اتحادیوں کی قربانیوں پر کیچڑاچھالتے رہے ہیں۔ جون میں، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ افغانستان میں لڑنے والے امریکی فوجی، کندھے کے پیچ پر ISAF کے مخفف، بین الاقوامی سیکیورٹی اسسٹنس فورس ،کا یہ کہہ کر مذاق اڑایاکریں گے کہ یہ در اصل ’’میں نے امریکیوں کو لڑتے دیکھا‘‘(I Saw Americans Fighting) تھا۔ ہیگستھ نے نیٹو اتحادیوں کی تذلیل کرتے ہوئے کہاتھاکہ ایساف کے پرچم پر بہت سارے جھنڈے ، بہت زیادہ زمینی صلاحیت کا مظہرنہیں تھے۔

ٹرمپ کے الفاظ کی اتحادیوں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے۔
ڈیوک آف سسیکس ،برطانوی شہزادہ ہیری نے نیٹو فوجیوں کی قربانیوں کا سچائی اور احترام کے ساتھ تذکرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہناتھاکہ میں نے وہاں خدمات انجام دیں۔ میں نے وہاں زندگی بھر کے دوست بنائے اور میں نے وہاں اپنے دوستوں کو کھو یا، انہوں نے افغانستان کی جنگ میں ہلاک نیٹو فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا، جن میں برطانیہ کے 457 اہلکار بھی شامل ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر نے امریکی صدرکے تبصرے کو توہین آمیز اور واضح طور پرنفرت انگیز قرار دیا ہے۔کیر نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے خود اس طرح غلط بات کی ہوتی تو وہ یقینی طور پر معافی مانگتے۔میں ان کی ہمت، ان کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔کئی ایسے بھی تھے جو زخمی ہوئے، کچھ زندگی بدل دینے والے زخموں کے ساتھ۔میں صدر ٹرمپ کے ریمارکس کو توہین آمیز اور واضح طور پر خوفناک سمجھتا ہوں اور مجھے کوئی تعجب نہیں کہ انہوں نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے پیاروں کو اور درحقیقت پورے ملک میں کس قدر تکلیف پہنچائی ہے۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے، جو افغانستان میں فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے33 ہزارپولش فوجیوں میں شامل رہے تھے، کہاہے کہ کسی کو بھی ہمارے فوجیوں کی خدمات کا مذاق اڑانے کا حق نہیں ۔

افغانستان جنگ کے دوران نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی امریکی صدر کو یہ آزادی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی وراثت کو حقیر سمجھے اور ان کی توہین کرے جوافغانستان سے زندہ واپس نہیں آئے۔میں جس چیز کی توقع کروں گا وہ مخلصانہ معافی ہے۔

ادھریورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کو محفوظ رکھنا اور اس کی قدر کرنا بے حد اہم ہے۔انہوں نے یہ بات برسلز میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس کی صدارت کے بعد کہی تھی۔

یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیم خودمختار ڈینش علاقے گرین لینڈ کو ضم کرنے اور یورپی یونین کے بعض ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرِثانی کے لیے بلایا گیا تھا۔یورپی سربراہی اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن کوسٹا نے کہا کہ اب ترجیح جولائی 2025 میں طے پانے والے یورپی یونین-امریکہ تجارتی معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔کوسٹا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ یورپی یونین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے،ہدف بدستور تجارتی تعلقات میں مؤثر استحکام کو یقینی بنانا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی یونین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑی رہے گی اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے خلاف اپنے، اپنے رکن ممالک، اپنے شہریوں اور اپنی کمپنیوں کا دفاع کرے گی۔

اجلاس کے بعد یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے تسلیم کیا کہ یورپ نےآرکٹک اور اس کی سلامتی میں بہت کم سرمایہ کاری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے یورپی یونین بجٹ میں کمیشن گرین لینڈ کے لیے مالی معاونت دوگنی کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ٹیم جلد ہی گرین لینڈ میں سرمایہ کاری کے لیے ایک جامع پیکج پیش کرے گی۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا کہ یورپی یونین کے ممالک کو آئندہ اپنی لچک اور مضبوطی میں اضافہ کرنا ہوگا۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا کہ امریکی دباؤ کی پالیسی کے خلاف اقدامات پر مبنی تجارتی نظام اور اس جیسے دیگر تمام ذرائع بدستور یورپی یونین کے پاس موجود ہیں۔انہوں نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ جب یورپ متحد ہو کر، اپنے پاس موجود ذرائع استعمال کرتے ہوئے کسی خطرے کا جواب دیتا ہے، تو وہ احترام حاصل کر سکتا ہے، اور یہ ایک بہت اچھی بات ہے۔

تاہم اجلاس سے ایک دن قبل ڈاووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ٹرمپ نے ٹیرفس سے متعلق اپنا دھمکی آمیز رویہ ترک کرتے ہوئے کہا کہ وہ آرکٹک جزیرے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

یورپ میں ٹرمپ کے تازہ ریمارکس کو گرین لینڈ کے معاملے پر یورپ سے بڑھتے تنائو کے تناظرمیں دیکھا جا رہاہے۔

یہ تاثر ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں کے درمیان اعتماد بری طرح اور شاید مستقل طور پر ختم ہو گیا ہے -یورپی مفکرین کا کہناہے کہ ایک زورآور جو اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتا ہے اور دوسروں سےغنڈہ گردی کرتا ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جانا چاہئے۔ اس نئے سامراج کا مقابلہ کرنااجتماعی امن اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔

یہاں تک کہ اگر دنیا امریکہ کو بے دخل نہ کرنے کا انتخاب کرتی ہے، ٹرمپ کی درجنوں کثیرالجہتی تنظیموں سے دستبرداری کا مطلب یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی نظام کو زندہ رہنا ہے تو اس کا زیادہ تر حصہ امریکی مداخلت کے بغیر چلانا ہوگا۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ، زیادہ کثیر قطبی ترتیب کے عروج کو تیز کرنے کے بجائے، ٹرمپ’’دنیا مائنس ون‘‘کا آغاز کر رہے ہیں، جس میں واشنگٹن شامل نہیں ۔امریکہ مزید کئی سال تک دنیا کا سب سے اقتصادی اور عسکری طور پر طاقتور ملک رہے گا۔ لیکن وہ کھل کرموجودہ بین الاقوامی نظام کے خلاف نہ بھی ہواتو غیر حاضر رہے گا۔

متعدد بین الاقوامی ادارے جیسے کہ اقوام متحدہ کے کنونشن آن دی لا آف دی سی (UNCLOS)، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس کا معاہدہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) یہ بتاتے ہیں کہ جب امریکہ غیر حاضر، غیر معاون یا حتیٰ کہ فعال طور پر مخالف ہو تو کثیر جہتی ادارے اور معاہدے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ برکس جیسے گروپوں کا عروج یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاستیں تعاون کے لیے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں جو عالمی نظام میں اقوام متحدہ کی مرکزیت کو کمزور نہ کریں۔

ماہرین کے مطابق ،جب تک امریکہ کثیرالجہتی نظام پر واپس آنے کے لیے تیار ہوگا، دنیا آگے بڑھ چکی ہوگی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن کا واحد انتخاب یہ ہو کہ وہ زیادہ مساوی شرائط پر ایک کمزور ادارے کے طور پر بین الاقوامی نظام میں دوبارہ شامل ہو جائے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔