گل پلازہ سانحے میں زندہ بچ جانے والی خاتون کےتہلکہ خیز انکشافات

گل پلازہ سانحے میں زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

خاتون نے بتایا کہ ان کی دکان بیسمنٹ میں تھی، جہاں بعد میں آگ بھڑک اٹھی۔ سانحے کے دن ہفتے کی رات تھی اور عید اور شادیوں کے سلسلے میں دکان میں رش زیادہ تھا۔ وہ اور دیگر دکاندار تھوڑا تھوڑا کر کے سامان سمیٹ رہے تھے کہ اچانک دس بجکر سات منٹ پر دھواں بھرنے لگا۔ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ سامنے موجود افراد بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔

خاتون نے بتایا کہ دس بجکر بیس منٹ پر وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئیں، اور تب تک آگ بہت زیادہ پھیل چکی تھی۔ گیٹ نمبر 3 سے شروع ہونے والی آگ گیٹ نمبر 1 تک پھیل رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی، لیکن خاتون کے مطابق اگر ایسا ہوتا تو صرف چند دکانیں متاثر ہوتیں۔

خاتون نے کہا کہ بروقت باہر نکلنے کی وجہ سے ان کی زندگی بچ گئی، تاہم ان کی دکان کے ساتھ جمع پونجی جل کر راکھ ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگ کے بعد چیزیں بچانے کے لیے دوبارہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی، اور کراچی میں لوٹ مار کے خدشات کی وجہ سے وہ زیادہ تر پیسے دکان میں رکھتی تھیں جو بھی جل گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔