خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور شدید برفباری کے نتیجے میں بچوں سمیت 9 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ پی ڈی ایم اے نے 22 جنوری سے اب تک ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق برفانی تودے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور گھروں کی چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 9 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 7 بچے، ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ ایک زخمی بچہ زیر علاج ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں 5 گھروں کو جزوی نقصان بھی پہنچا ہے۔
یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع چترال (اپر اور لوئر)، دیر، مالاکنڈ، شانگلہ اور خیبر میں پیش آئے۔ بارشوں اور برفباری کے بعد بیشتر اضلاع میں بند شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں، جبکہ بالائی علاقوں میں باقی ماندہ بند سڑکوں کو کھولنے کے لیے مشینری مصروفِ عمل ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرہ ضلع چترال لوئر کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد جلد فراہم کی جائے اور متاثرین کی فوری مدد یقینی بنائی جائے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے بالائی اضلاع میں بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ پیر کی رات سے منگل تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جاری کردہ ہدایات اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos