فائل فوٹو
فائل فوٹو

معیار جانچنے والے ادارے کی ساکھ خاک میں مل گئی

عمران خان:

مصنوعات کا معیار جانچنے والے ادارے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں بڑھتی بے قاعدگیوں اور کرپشن نے خود اس اہم ادارے کی ساکھ مزید بگاڑ دی ہے۔ پی ایس کیو سی اے میں کرپشن، بے قاعدگیوں اور اختیارات کے غلط استعمال کا ایک بعد ایک اسکینڈل سامنے آنے لگا ہے جس سے مصنوعات کا معیار جانچنے والا وزارت سائنس کا ادارہ متنازع ہوچکا۔ اس وقت بھی کئی انکوائریوں پر کام جاری ہے تاہم ساتھ ہی ادارے کے بااثرعناصر، وزارت میں بیٹھے سہولت کاروں کے ذریعے انہیں ختم کروانے کے لئے سرگرم ہیں۔ جبکہ ان معاملات کی بازگشت وزیر اعظم ہائوس تک پہنچ چکی ہے جہاں سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔

’’امت‘‘ کو ملنے والی دستاویزات اور معلومات کے مطابق وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارے پی ایس کیو سی اے میں جعلی بھرتیوں کے بعد اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے نئے اسکینڈل پر اعلیٰ افسرعبدالوحید میمن کے خلاف منظر عام پر آنے والی تحریری شکایت پر ادارے کی جانب سے ایکشن لے لیا گیا۔ جس میں مذکورہ افسر سے تحریری جواب طلبی کے ساتھ ہی ان کے حوالے سے ایک انکوائری بھی شروع کردی گئی ہے۔

ذڑائع کے مطابق پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں غیر قانونی بھرتیوں کے اسکینڈل کے بعد اب اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، قواعد سے انحراف اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزیوں کا ایک اور سنگین معاملہ سامنے آگیا ہے۔

اس حوالے سے پی ایس کیو سی اے ہیڈکوارٹرز کراچی سے جاری ہونے والا ایک سرکاری مراسلہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی (MoST) تک پہنچ چکا ہے، جس نے ادارے کی اندرونی گورننس پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دستاویز کے مطابق یہ مراسلہ پی ایس کیو سی اے کے سیکریٹری کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) عبد الواحد میمن کو ارسال کیا گیا، جس میں ان پر متعدد انتظامی، قانونی اور سروس رولز کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مراسلے میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ عبد الواحد میمن نے 21 اکتوبر 2025ء کو ایک ایسا آفس آرڈر جاری کیا جس کے تحت ڈائریکٹر (لیگل) نارتھ کو براہِ راست ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے کو رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حالانکہ پی ایس کیو سی اے کے منظور شدہ اسٹرکچر میں ڈائریکٹر (لیگل) نارتھ کا کوئی باقاعدہ عہدہ موجود ہی نہیں۔ مراسلے میں اس اقدام کو نہ صرف قائم شدہ چین آف کمانڈ کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) انتظامی طور پر سیکریٹری پی ایس کیو سی اے کو رپورٹ کرنے کا پابند ہے، نہ کہ براہِ راست ڈائریکٹر جنرل کو۔ حکام کے مطابق اس غیر قانونی آفس آرڈر کے باعث ادارے کو بالخصوص عدالتی مقدمات کے معاملات میں شدید انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مراسلے میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم ستمبر 2025ء کو عبد الواحد میمن نے ایک اور آفس آرڈر جاری کرتے ہوئے سیکریٹری MoST کی جانب سے 28 اگست 2025ء کو دی گئی منظوری کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا، جو ڈائریکٹرز کی تقرری و تبادلوں سے متعلق تھی۔ دستاویز کے مطابق یہ اقدام پی ایس کیو سی اے سروس رولز 2015 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سرکاری مراسلے میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964 کے تحت کوئی بھی افسر چین آف کمانڈ کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، جس پر ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مراسلے میں یہ بھی درج ہے کہ عبد الواحد میمن 21 اکتوبر 2025ء کے بعد سے اہم قانونی و انتظامی کیسز براہِ راست مجاز اتھارٹی کو بھجواتے رہے، جبکہ چھ ہفتوں سے زائد عرصے تک ایڈمن سیکشن کے ذریعے کوئی کیس باقاعدہ طور پر فارورڈ ہی نہیں کیا گیا۔ دستاویز میں ایک اور انکشاف یہ ہے کہ عبد الواحد میمن نے قواعد کے برعکس ایک مشیر/کنسلٹنٹ سید خرم عباس کی تقرری کی، جبکہ سرکاری قواعد کے مطابق کسی بھی کنسلٹنٹ یا ماہر کی تقرری صرف باقاعدہ سلیکشن کمیٹی کی سفارش اور اتھارٹی بورڈ کی منظوری سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ مراسلے کے مطابق نہ تو کوئی سلیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی بورڈ آف اتھارٹی سے منظوری لی گئی، جس کے باعث یہ تقرری غیر قانونی قرار پاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں میڈیا میں معاملہ آنے پر خود عبد الواحد میمن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مذکورہ تقرری ڈائریکٹر جنرل کی منظوری کے بغیر کی گئی تھی۔

مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ عبد الواحد میمن نے مختلف افسران کے غیر قانونی تبادلوں اور ڈیپوٹیشنز کا بندوبست کیا، جن میں PARA اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سے افسران کو پی ایس کیو سی اے میں تعینات کرنا شامل ہے، جبکہ ان تقرریوں کے لیے نہ تو سیکریٹری MoST کی منظوری لی گئی اور نہ ہی پی ایس کیو سی اے سروس رولز 2015 پر عمل کیا گیا۔ مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کے ذاتی ریکارڈز ایڈمن سیکشن میں مکمل طور پر دستیاب نہیں تھے، جو ایک سنگین انتظامی غفلت تصور کی جا رہی ہے۔ یہ تمام انکشافات پی ایس کیو سی اے کے ملازمین کی جانب سے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو دی گئی حالیہ تحریری درخواست سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جس میں پہلے ہی عبد الواحد میمن پر ایک ایسے عہدے چیف لیگل آفیسر (CLO) پر تعیناتی کا الزام لگایا گیا تھا جو ادارے کے منظور شدہ اسٹرکچر میں موجود ہی نہیں۔

درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ ستمبر 2023ء میں انہیں ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) کا اضافی چارج صرف تین ماہ کے لیے دیا گیا تھا۔ تاہم وزارت کی منظوری کے بغیر وہ تاحال یہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ درخواست اور مراسلے میں سرکاری سہولتوں کے مبینہ ذاتی استعمال، غیر شفاف بیرونِ ملک ٹریننگز اور دوروں کی منظوری اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر اختیارات کے استعمال جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

ادارے کے اندرونی حلقوں کے مطابق پی ایس کیو سی اے میں پہلے ہی 40 سے زائد غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ زیرِ تفتیش ہے۔ اور اب یہ نیا مراسلہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ مسائل محض بھرتیوں تک محدود نہیں بلکہ ادارے کے اندر نظم و ضبط، چین آف کمانڈ اور قانون کی عملداری بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ اگر ان الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو اصلاحات اور احتساب کے تمام دعوے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔