’’بے بی بُومرز‘‘ سے’’جین زِی‘‘تک
امجد بٹ
جب کوئی قوم سائنسی میدان میں روزمرّہ ضرُورت کی مشِینری بناتی ہے تو اُس کے تمام پُرزوں کے نام اُس کی قومی زُبان کے الفاظ کے ساتھ ساری دُنیا میں شہرت اور رواج پاتے ہیں ۔1886ء میں پہلی گاڑی(بِنز پیٹینٹ موٹر ویگن) بنانے والے جرمن اِنجِینئر کارل بِنز نے انگریزوں کو اپنی گاڑیاں بیچنے کے لئے اُن کی زُبان کا سہارا لِیا تو گاڑی کے پُرزوں کو انگریزی ناموں سے شہرت مِلی ۔ اِسی طرح مخصُوص سائنسی ، عِلمی اور ادبی ناموں کو انگریزی زُبان میں اُن کی تحقِیق اور دریافت کی گئی چِیزوں کی وجہ سے شہرت مِلی۔
2026ء میں سوشل مِیڈیا سے وابستہ ہر فرد کو چیٹ جی پی ٹی( Chat Generative Pre-trained Transformer) ’’جین زی‘‘(Generation Zee) اور ’’بے بی بُومرز‘‘ (Baby Boomers ) جیسے خاص الفاظ سُننے کو مِل رہے ہیں اور یقیناً یہ ہماری زِندگی اور ہر کامیاب و زِندہ زُبان کا حِصّہ بننے والے ہیں ۔ اِس قِسم کے تمام مخصُوص الفاظ کا مطلب اور تارِیخی حوالہ سمجھے بغیر 1991ء سے پہلے پیدا ہونے والے افراد اور موجُودہ و آئندہ نسل کے درمیان حائل ذہنی فاصلوں کو کم نہِیں کِیا جا سکتا ۔ جیسے 1950ء تا 1970ء کے دوران میں پیدا ہونے والی نسل کی اکثرِیّت سوشل مِیڈیا ( موبائل و اِنٹرنیٹ) کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔گُزشتہ دو دہائیوں سے مصنُوعی ذہانت (AI) کے ذیلی اِداروںگُوگل،وِکی پِیڈیا،چیٹ جی پی ٹی اورمیٹا ون نے جہاں اِنسانی زِندگی کی ترقّی اور تیزی میں اہم کِردار ادا کِیا ہے وہِیں محدُود طبقے کے خیال میں اِس نے مُعاشرے کی تہذِیب و ثقافت اور تخلِیقی صلاحیتوں پر منفی اثرات بھی ڈالے ہیں ، جنہیں نظر انداز نہِیں کِیا جا سکتا ۔ مثلاً آج کی نسل(جین زی) جو کُچھ بھی لِکھنا یا عکس بنانا چاہتی ہے صِرف اُس کا عُنوان لِکھ کر چیٹ جی پی ٹی کو حُکم(پرامپٹ) دیتی ہے اور چند لمحوں میں الہ دِین کے چراغ یا’’جامِ جم ‘‘کی طرح آپ کی پسندِیدہ زُبان میں لِکھے لِکھائے یا ترجمہ کِیے گئے مضامِین و مقالات اور وِیڈیو کی صُورت میں آپ کے حُکم کی تعمِیل ہو جاتی ہے ۔
اِس تمام عمل سے نہ صِرف جین زی تخلِیقی اور فِکری صلاحیتوں سے محرُوم ہوتی جا رہی ہے بلکہ یُونِیورسِٹیوں میں مقالہ جات کے پڑتال کے طریقۂ کار ( پلیجر اِزم رپورٹ وغیرہ )بھی مشکُوک ہو چُکے ہیں ۔ اِس لئے کہ چیٹ جی پی ٹی کسی بھی جگہ سے براہِ راست نقل کرنے کے بجائے اِنسان کی عطا کردہ محدُود مصنُوعی ذہانت (اے آئی) کے عطا کردہ ذخِیرۂ الفاظ و معلُومات کے بل بوتے پر جواب تیّار کر کے دیتا ہے ۔
بِیسوِیں صدی کے دوران میں سائنسی ترقّی میں جِس قدر تیزی آئی وہ گُزشتہ ہزاروں برس میں مُمکِن نہ ہو سکی ۔ لہٰذا 1928ء سے پہلے والی نسلوں کو ’’کھوئی ہُوئی نسلیں‘‘1883ء تا 1900ء (Lost Gen) ، ’’سونا چڑھا دور‘‘ 1840ء تا 1880ء (Gilded Age) اور 1820ء تا 1840ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو ’’خیالی نسل‘‘ (Transcendental Gen) کے نام سے یاد کِیا جاتا ہے ۔ کِیُونکہ یہ لوگ ادب اور فلسفے کی تربِیّت کے باعث رُوحانی اور فِکری آزادی کے دور میں قدم رکھ چُکے تھے ۔
کامیاب عرب مُعاشرے اور اِس سے پہلے کے ادوار نے بھی اِنسانی مُعاشرے کی ترقّی اور تنزلی میں اہم کِردار ادا کِیا ہے لیکن اُن کا ذِکر اب تارِیخی کُتب کا حِصّہ بن چُکا ہے ۔’’جین زی‘‘اور اِس سے وابستہ جدِید و قدِیم نسلوں کا تارِیخی و لِسانی جائزہ لینے سے پہلے موبائل فُون کے اِستعمال سے مُتعلّق اپنی نسلوں کی درجہ بندی پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیتےہیں ۔
موبائل فُون کے حوالے سے ہماری نسلوں کا زمانہ یہ ہے:(1980ء ۔تا۔ 1990ء)1۔جی(جنریشن ون )پہلی نسل کے موبائل فُون میں اینالاگ ٹیکنالوجی(قدِیم ٹیلی فُون کی طرح سِگنل کی مدد سے پیغام رسانی) استعمال ہوتی تھی ۔ یہ فُون بڑے اور بھاری تھے اور صِرف بات کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
( 1991ء۔تا۔ 2000ء) “2۔جی” (جنریشن ٹو)دُوسری نسل کے موبائل فُون میں ڈِیجِیٹل ٹیکنالوجی (کمپیُوٹر میں ہِندسوں کی مدد سے پیغام رسانی) استعمال ہُوئی ۔ اِس نسل میں ایس ایم ایس “Short Message Service ” (تحرِیری پیغام) اور ایم ایم ایس “Multi media Messaging Service” کی سہُولت بھی مُتعارف ہُوئی ۔
( 2001ء۔تا۔2010ء)”3. جی (جنریشن تھری)تِیسری نسل کے موبائل فُون میں اِنٹرنیٹ کی سہُولت مُتعارف ہُوئی ۔ اِس نسل میں موبائل فُون پر ویڈیو کالِنگ(بِالمُشافہ گُفتگُو) اور موبائل اِنٹرنیٹ بھی مُمکِن ہُوا ۔
( 2011ء۔تا۔2020ء)” 4 ۔ جی (جنریشن فور) چوتھی نسل کے موبائل فُون میں تیز رفتار اِنٹرنیٹ کی سہُولت مُتعارف ہُوئی ۔ اِس نسل میں موبائل فُون پر وِیڈیو سٹریمنگ اور آن لائن گیمنگ (الگ الگ مقامات یا مُمالک میں بیٹھ کر بھی کِسی مُشترِک کھیل , اِمتحان یا کانفرنس میں حِصّہ لینا) مُمکِن ہو سکا ۔
(2020ء۔تا۔ حال)”5۔جی” (جنریشن فائیو) پانچویں نسل کے موبائل فُون میں اور بھی تیز انٹرنیٹ کی سہُولت مُتعارف ہُوئی ۔ اِس نسل میں موبائل فُون پر آئی ٹی، ائیر ( کمپیُوٹر پر اِنٹر نیٹ کے ذریعے معلُومات جمع کرنا اور اپنے خیالات کے مُطابِق وِیڈیو بنانا) اور دِیگر جدِید ٹیکنالوجی کا اِستعمال مُمکِن ہُوا ۔ لیکن گُزشتہ سو برس میں نشو نما پانے والی نسلوں کے فِکری ، زمانی اور سماجی اِرتقاء کو سمجھنے کے لئے اُن کی درج ذیل درجہ بندی کی گئی ہے ۔
Silent Generation :خاموش نسل (1928ء تا 1945ء) اِن 18 برس میں پرورش پانے والے بچّوں کو اِس لئے خاموش نسل کہا جاتا ہے کِیُونکہ دُوسری عالمی جنگ (1945ء تا 1947ء) اور سرد جنگ کے باعث اِن لوگوں کو اِظہارِ رائے کی مُناسب آزادی نہیں تھی ۔ یہ لوگ خاموشی سے کاروبار کرتے اور مُعاشی ذِمّہ داریاں نِبھاتے تھے ۔ 1951ء کے ٹائم میگزِین نے پہلی بار اِن لوگوں کے لئے’’خاموش نسل‘‘یعنی Silent Gen کا لفظ اِستعمال کِیا ۔
Baby Boomers : اِنفجاری نسل (1946ء تا 1964ء) انگریزی زُبان کے لفظ Boom اور عربی کے’’اِنفجار‘‘میں تیز دھماکے ، آتش فِشانی اور بھڑک اُٹھنے کے ایک جیسے معانی موجُود ہیں ۔ چُونکہ یہ نسل دُوسری عالمی جنگ کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پیدا ہُوئی اور اِن کی نسل میں تیزی سے اِضافہ ہُوا لہٰذا اِنہیں Baby Boomers یعنی اِنفجاری نسل کہا جاتا ہے ۔
لفظ Boomer کا اِستعمال پہلی بار 1938ء میں ہُوا لیکن تحرِیری طور پر اِسے پہلی بار ٹائم میگزِین نے 1951ء میں اِستعمال کِیا ۔
Generation – X :غیر واضح نسل (1965ء تا 1980ء) امرِیکی لُغت نوِیس ڈوگلس کپپلینڈ نے اِس لفظ کو 1991ء کے ایک ناول ’’جین ایکس‘‘سے مُنتخِب کِیا ۔ جِس کے مُطابِق اِس عرصہ میں پیدا ہونے والی نسل کو غیر محفُوظ مُستقبِل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہٰذا اِسے ’’جین ایکس‘‘یعنی غیر محفُوظ مُستقبِل والی نسل کہا گیا ہے ۔ Millennials : ہزارئیے (1981ء تا 1996ء) اِس لفظ کا صُوبہ خیبر پختُون خوا کے ضِلع ’’ہزارہ‘‘سے کوئی تعلق نہِیں ۔انگریزی لفظ Millennium مِلینِیم کا لاطِینی مادّہ ( Origin) “Mille”(ہزار) اور “Annus”(سال) ہے ۔ لفظ “Mil” عالمی زُبان اسپرانتو کی طرح اکثر مغربی زُبانوں میں بھی ہزار کے معنوں میں مُختلِف سابقوں لاحقوں کے ساتھ اِستعمال ہُوا ہے ۔ مثلاً “Million”(ہزار دفعہ ہزار) ، “Millipede”(کنکھجُورا ، ہزار پا) ، اور “Millimetre”(مِلی مِیٹر ، لمبائی کا ہزارواں حِصّہ) ۔اِس پندرہ برس کے دورانیہ یا عرصہ میں پیدا ہونے والی نسل کو ’’ہزاریے‘‘یا Millennials اِس لئے کہا جاتا ہے کہ اِنہوں نے ختم ہونے والے ہزار برس کا آخری اور شُرُوع ہونے والے ہزار برس کا اِبتدائی زمانہ دیکھا ہے ۔
یہ لفظ پہلی بار 1991ء میں امریکی (لُغت نوِیس) وِلیم اسٹرِیٹ نے اِستعمال کِیا ۔ چُونکہ یہ نسل ’’جین ایکس”‘‘کے فوراً بعد آئی ہے لہٰذا اِسے ’’جین وائی‘‘ (Gen . Y) بھی کہا جاتا ہے ۔ Gen – Zee : جین زِی ( 1997ء تا 2012ء) چُونکہ رومن رِسم الخط کا آخری حرفِ تہجّیZ ہے اور اِن سولہ برس میں پیدا ہونے والی نسل نے گُزشتہ ہزاری (ہزار برس) کے آخری چار برس اور نئی ہزاری کے اِبتدائی 12 برس میں جنم لِیا لہٰذا تیز رفتار اِنٹرنیٹ اور زُوم ٹیکنالوجی اِستعمال کرنے والی اِس نسل کو ’’جین زی‘‘کا نام دِیا گیا ہے ۔ ’’جین زی‘‘ کو ’’آئی جین‘‘(I . Gen) اور ’’زُومرز‘‘(Zoomers) بھی کہا جاتا ہے ۔
Alfa Gen :ایلفا جین (2013ء تا 2024ء)یُونانی حروفِ تہجّی کے پہلے حرف ” a ” کو “الفا” کہا جاتا ہے ، جِس کے معنی “پہلا” اور “اِبتداء” کے ہیں ۔ چُوں کہ یہ نسل مُکمّل طور پر تِیسری ہزاری یا اِکِیسوِیں صدی کے اِبتداء میں پیدا ہونے والی پہلی نسل ہے لہٰذا اِسے “جین ایلفاکہا گیا ہے ۔ یہ نسل مُکمّل طور پر ڈِیجِیٹل (سمارٹ فُون و ٹیبلٹ) دور میں نشو و نُما پا رہی ہے ۔
Gen Beta : بی ٹا نسل (2025 ء تا 2039ء)یُونانی زُبان کے دُوسرے حرفِ تہجّی کا نام’’بِیٹا‘‘ہے لہٰذا ’’ایلفا‘‘نسل کے بعد آنے والی نسل جو مصنُوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی کے عُرُوج کے ساتھ عملی طور پر عالمگِیر مُعاشرے اور ثقافت میں پرورش پائے گی اُنہیں’’بِیٹا کِڈز‘‘کہا جائے گا ۔ اِس نسل کے بچّے سکُولوں کے بجائے اِنفرادی تعلِیم کو ترجِیح دیں گے اور ماحولیاتی تبدِیلیوں کے مُطابِق اور مُعاشرتی ضرُورتوں کے پیشِ نظر “مصنُوعی ذہانت” ، روبوٹِکس اور “ڈیٹا سائنس” کی تعلِیم حاصِل کریں گے ۔
Gen Gamma : گیما نسل (2040ء تا 2054ء)یہ نسل شدِید موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدِیلیوں کا سامنا کرے گی لیکِن اِن کی زِندگی کا ہر لمحہ ڈِیجِیٹل اور مصنُوعی ذہانت کے مُطابِق گُزرے گا ، یعنی مزِید 25 برس بعد ہم مُکمّل طور پر مشِینی زِندگی گُزار رہے ہوں گے ۔ عالمگِیر تہذِیبی مُعاشرے میں کامیاب زِندگی گُزارے کے لئے ’’ گیماما نسل‘‘کو کئی تہذِیبی و ثقافتی اور تخلِیقی صلاحیتوں کو مجبُوراً قُربان کرنا پڑے گا ۔
یہ بات بھی درُست ہے کہ اِنسان موبائل یا لیب ٹاپ کی نِسبت کِتاب سے 80 فِیصد بہتر مُستند اور زیادہ مُطالعہ کر سکتا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مُطابق اگر ہمیں پچاس برس ڈِیجِیٹل سکرِین یعنی موبائل وغیرہ پر پڑھنے کا موقع مِلے تو دس برس ہمارےسکرولِنگ(مطلُوبہ موضُوع و صفحہ کی تلاش) میں ضائع ہو جائیں گے ۔ نِیز جو شخص ایک بار سکرین پر پڑھنے کا عادی ہو جائے کِتابی صفحے پر پڑھنا اُس کے لئے بہت مُشکِل ہو جاتا ہے ۔ گیما نسل کو اِن مصائب کا حل بھی ڈھُونڈنا ہو گا ۔
جدِید سائنسی ترقّی کا ہر قدم فائدے کے ساتھ ساتھ اِبتداء میں کُچھ نُقصان اور کمزوریاں بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت نہ رکھنے والے لوگ سب سے زیادہ مُشکلات کھڑی کرتے ہیں لہٰذا رفتہ رفتہ اُن کمزوریوں پر قابُو پا کر یہی ترقّی اِنسانیت کے لئے مُفید ضرورت بن جاتی ہے ۔ مثلاً کہنے کو تو گُوگل ، وِکی پِیڈیا چیٹ جی پی ٹی ، اے آئی اور میٹا ون جیسے اِداروں نے اِنسانی زِندگی کو نہ صرف کاہل بنا دِیا ہے بلکہ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے والوں کے لئے چور دروازے بھی کھول دِیئے ہیں ، آپ سوچیں ، بولیں ، پُوچھیں اور آپ کی مطلُوبہ زُبان میں پلک جھپکتے ہی آپ کا کام تیّار مِل جائے گا ۔ گویا آپ نے جِن قید کر لِیا ہے جو آپ کا حُکم بجا لانے کے لئے آپ کے ہاتھ کی جُنبش کا مُنتظِر ہے ۔ لیکِن کیا ہم یہاں اپنی غلطی کو بھی ماننے کے لئے تیار ہیں کہ یہ تمام سائنسی سہُولتیں بلکہ نعمتیں تو سائنسدانوں نے ہماری آسانی کی لئے بنائی تھِیں اور جِن افراد نے اِن نعمتوں کا مثبت اِستعمال کِیا وہ تِیس برس کی عُمر میں ہی اسّی برس کے تجربہ کار فرد جِتنا کام کر چُکے ہوتے ہیں اور ہم اپنی اخلاقی تربِیّت درُست نہ ہونے کے باعث اِن نعمتوں کو نہ صرف غلط اِستعمال کرتے بلکہ اِسے استعمال کرنے کی مہارت نہ ہونے کے باعث اِسے مُعاشرے کے لئے نُقصان قرار دیتے ہیں۔