یورپ میں سولر پینل سرخ کیوں ہوتے ہیں ؟

February 16, 2026 · کائنات کے رنگ

 

آسٹریاکی کمپنی نے ٹیراکوٹانامی سولرماڈیول متعارف کرایا ہے جو ان سرخ ٹائلوں کے رنگ کا ہے جو یورپ مقں قدیم عمارتوں کی چھتوں پر نصب ہوتی ہیں۔

 

اس کی خاص بات یہ ہے کہ پہلے جب کبھی سولر پینلز کا رنگ بدلنے کی کوشش کی گئی، تو ان میں بجلی بنانے کی صلاحیت کم ہو جاتی لیکن اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شیشے کو رنگنے کے بجائے ایک خاص تہہ ستعمال کی ہے، جس سے پینل کا رنگ تو سرخ ہو جاتا ہے لیکن وہ روشنی جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

 

سرخ پینل400واٹ تک بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ اوراس میں ایسے سیلز استعمال کیے گئے ہیں جو بجلی کے بہا ئوکو بہتر بناتے ہیں۔سرخ رنگ کے سولرپینل کی افادیت 20 فیصدتک موثر ہے، جو اسے رہائشی مقاصد کے لیے زیراستعمال بہترین پینلز کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ان پینلز کی ساخت انہیں نمی اور موسم کی سختیوں سے بچاتی ہے۔ ا 25سالہ پرفارمنس وارنٹی ہے اور یہ 30سال تک چل سکتے ہیں۔

 

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ماڈیول کو جرمن ادارے سے باقاعدہ منظوری مل گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے قانونی طور پر بھی ان عمارتوں پر لگایا جا سکتا ہے جن کی تاریخی حیثیت کو محفوظ قراردیاگیاہے۔

 

واضح رہے کہ یورپ میں قدیم یا تاریخی اہمیت کے علاقوں میں سخت قوانین کا نفاذہے جن کے مطابق گھر کا رنگ، کھڑکیوں کے فریم اور لیٹربکس تک کی شکل بھی طے شدہ ضوابط کے مطابق ہونی چاہیے۔ان قوانین کی موجودگی میں چھتوں پر چمک دار نیلے یا کالے رنگ کے سولرپینلزنہیں لگائے جاسکتے۔اسی وجہ سے مقامی حکومتیں ڈیزائن کوڈز نافذ کرتی ہیں تاکہ عمارتوں کی تاریخی شکل برقرار رہے۔