“لاڈلوں” کی چھٹی کا وقت آگیا

February 17, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

نمائندہ امت:

بھارت سے ذلت آمیز شکست کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی انتہائی برہم ہیں۔ اس ضمن میں با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی نے اس امید پر بعض کھلاڑوں کے خوب لاڈ اٹھائے کہ وہ شاید پاکستان کو نمبر ون ٹیم بنانے میں جی جان لگا دیں گے۔ لیکن ان ’’لاڈلوں‘‘ نے ملک و قوم کی شان خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

گزشتہ برس ایشیا کپ میں بھارت کے ہاتھوں لگاتار تین ناکامیوں کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ مشن کیلئے ناکام کپتان سلمان علی آغا پر دوبارہ اعتماد کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کا خیال تھا کہ یہ لڑکا ورلڈ کپ میں بھارت کو دھول چٹانے میں ضرور کامیاب ہوگا۔ اس مشن کیلئے چیئرمین نے پی سی بی کے سالانہ 18.3 ارب روپے کے بجٹ کا بڑا حصہ ’’لاڈلے‘‘ کھلاڑیوں کو تیار کرنے کیلئے پانی کی طرح بہایا۔ پاکستان کے پریمیم فاسٹ بالر شاہین آفریدی اور کنگ بابر کو اپنی مہارت نکھارنے کیلئے غیر ملکی لیگز کھیلنے کی اجازت دینے کے ساتھ، ان کی فٹنس کیلئے دنیا کے ٹاپ کلاس ٹرینرز کو پی سی بی کے خرچے پر تعینات کیا گیا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کو کائونٹر کرنے کیلئے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ میں تگڑا اضافہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ورلڈکپ کی تیاری کے سلسلے میں محسن نقوی نے غیر ملکی کوچنگ اسٹاف پر بھی اندھا دھند سرمایہ کاری کی۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاری کیلئے آئی سی سی کے ’فیوچر ٹور پروگرامز‘ سے ہٹ کر پی سی بی کے خرچے پر ’ہوم اینڈ اوے سیریز‘ کے انعقاد کیلئے اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ چیئرمین پی سی بی کے اس وژن کو کامیاب بنانے کے لیے کھلاڑیوں کے طرزِ زندگی کو بھی شاہانہ بنا دیا گیا۔

غیر ملکی دوروں کے لیے چارٹرڈ فلائٹس کا استعمال اور سیون اسٹار ہوٹلوں میں قیام کی مد میں قومی خزانے سے 45 کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم نکلوائی گئی۔ یہاں تک کہ کھلاڑیوں کیلئے پسندیدہ پکوانوں کا بندوبست کرنے کیلئے ماسٹر شیفس کی ٹیم بھی ہمراہ رکھی گئی۔ جبکہ بھارت کے خلاف ہائی پروفائل ٹاکرے سے قبل کھلاڑیوں کے اعتماد کی بحالی کیلئے آسٹریلیا جیسی تگڑی ٹیم کے خلاف ہوم سیریز میں من پسند پچ پر مہنگی ترین سیریز کی میزبانی کی گئی جس میں پاکستان نے آسٹریلیا کو تین صفر سے روند کر بھارت سمیت دیگر ٹیموں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجائی۔

نیدرلینڈ اور یو ایس اے جسی کمزور ٹیموں کے خلاف کامیابی کے بعد چیئرمین پی سی بی کیلئے بعض کھلاڑی بدستور لاڈلے ہی رہے۔ لیکن بھارت کے خلاف رسوا کن شکست کے بعد لاڈلے کھلاڑیوں کے حوالے سے ان کی رائے بدل چکی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے خلاف رسوا کن شکست نے پی سی بی چیف محسن نقوی کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ بورڈ کے اندرونی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ چیئرمین کا پارہ اس قدر ہائی ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا کہ مراعات یافتہ ان لاڈلے کھلاڑیوں کو سرعام مرغا بنا دیں اور کڑی سزا دیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے کولمبو سے آنے والی رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی وقار اور پی سی بی کے اربوں روپے کے بجٹ کا ضیاع قرار دیا ہے۔ جبکہ بورڈ حکام کے ساتھ ہنگامی گفتگو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب شاہانہ پروٹوکول کا دور ختم ہو چکا اور وہ ان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر کسی قسم کی معافی دینے کے موڈ میں نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کی مراعات ختم کرنے اور ٹیم میں بڑے پیمانے پر سرجری کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

دوسری جانب نمیبیا کے خلاف ہونے والے اگلے میچ کے لیے قومی ٹیم کی حتمی الیون میں بڑے پیمانے پر سرجری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی کی ایما پر بابر اعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان کو سائیڈ لائن کئے جانے کا امکان ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کو خدشہ ہے کہ نمیبیا جیسی ٹیم کے خلاف کسی بھی قسم کی کوتاہی ایک اور عالمی رسوائی کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر ہوچکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بابر اعظم کے متبادل کے طور پر بینچ پر فخرزمان اور خواجہ نافع موجود ہیںِ۔ جب کہ شاہین آفریدی کی جگہ سلمان مرزا اور نسیم شاہ کو کھلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔