پنشن کے لالچ میں بیٹی نے8سال تک ماں کی میت کو چھپائے رکھا

February 17, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

جرمن ریاست باویریا کے ضلع روہمانسفیلدن میں پولیس نے ایک گھر سے معمر خاتون کی کئی سال پرانی بوسیدہ لاش برآمد کر لی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ 82 سالہ بیٹی نے اپنی ماں کی موت کو خفیہ رکھا تاکہ وہ ماہانہ 1500 یورو (تقریباً ساڑھے چار لاکھ پاکستانی روپے) پنشن وصول کرتی رہے۔

جرمن اخبار ”بلڈ” کے مطابق مقامی میئر ورنر ٹروئبر گزشتہ آٹھ برسوں سے مسلسل کوشش کر رہے تھے کہ وہ 1922 میں پیدا ہونے والی صوفی نامی خاتون سے ملاقات کریں اور انہیں طویل العمری پر خراجِ تحسین پیش کریں، تاہم ہر بار ان کی بیٹی کرسٹا کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر انہیں دروازے سے ہی ٹال دیتی تھی۔

پولیس کی کارروائی اور ہولناک انکشاف

میئر کی اطلاع پر جب پولیس نے 5 فروری کو گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں سے صوفی کی بوسیدہ لاش برآمد ہوئی۔ باویریا پولیس کے اعلامیے کے مطابق لاش اس قدر پرانی ہے کہ موت کی حتمی تاریخ یا وجہ کا تعین نہیں ہو سکا، البتہ قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ متوفیہ کا ہیلتھ انشورنس کارڈ گزشتہ 10 سال سے استعمال نہیں ہوا, خاتون کی 1500 یورو ماہانہ پنشن مسلسل جاری رہی جو کہ مبینہ طور پر بیٹی وصول کر رہی تھی۔

پولیس نے بیٹی کے خلاف دھوکہ دہی اور مالی خورد برد کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مشتبہ بیٹی کرسٹا اس وقت ایک خصوصی طبی کلینک میں زیرِ علاج ہے، جبکہ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ سلسلہ کتنے برسوں سے جاری تھا۔