آزاد عالمی تجزیہ کاردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کامیاب کیوں قراردے رہے ہیں؟

February 17, 2026 · امت خاص

 

 

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کو بین الاقوامی حلقوں میں کامیاب اور نتیجہ خیز قراردیاجارہاہے۔

آزادمبصرین اور تجزیہ کاروں کا مانناہے کہ پاکستانی فوج اور حکومت نے دہشت گردوں کو شکست دے دی۔ ترک جریدے” ڈیلی صباح” کے ایک آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی برداشت اور استحکام کو دو بڑے دہشت گرد حملوں نے آزمایا، پاکستان کے بھرپور اور تیز ردعمل نے دہشت گردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روک دیا۔اسلام آباد مسجد حملہ اور بلوچستان میں مربوط دہشت گردی کا مقصد خوف، فرقہ وارانہ بے چینی اور ریاست پر اعتماد کو کمزور کرنا تھا، دہشت گردوں کی حکمت عملی علاقے پر قبضہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا اور ریاستی کمزوری کا تاثر دینا تھا۔

 

”ڈیلی صباح” کے مطابق پاکستان نے بھرپور انسداد دہشت گردی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، اسلام آباد خودکش حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے تقریبا 40 گھنٹوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

 

ترک جریدے کے مطابق بلوچستان میں ایک ہفتے جاری رہنے والے آپریشن ردالفتنہ کے دوران بی ایل اے کے 216 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، حملوں کے باوجود نہ ریاستی رٹ کمزور ہوئی، نہ سٹریٹجک نقصان ہوا اور نہ دہشت گرد مقاصد حاصل کر سکے۔

 

جدید دہشت گردی دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے، ایک مسلح حملے اور دوسرا نفسیاتی و پروپیگنڈا جنگ ہے، دہشت گردوں کا اصل ہدف میدان جنگ نہیں بلکہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا تھا۔آرٹیکل میں کہا گیا کہ فوری کنٹرول، دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا اور نفسیاتی جنگ ناکام بنانا، پاکستان نے تینوں مراحل جیت لیے، عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے سے علیحدگی پسند بیانیہ بے نقاب اور دہشت گردی ثابت ہوئی۔

 

ترک جریدے کے مطابق بین الاقوامی سطح پر بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا پاکستان کے موقف کی تائید ہے۔سرحد پار معاونت اور جدید ہتھیار دہشت گردی کو زیادہ خطرناک بنا رہے ہیں، افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے اسلحہ کا دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے کے خدشے کو پاکستان نے عالمی توجہ دلائی۔ دہشت گردوں کو جسمانی، مالی اور نفسیاتی جگہ نہ دینا ہی پاکستان کی کامیاب حکمت عملی اور استحکام کی ضمانت ہے، جدید دفاع کا مقصد صرف حملہ روکنا نہیں بلکہ ہر دھچکے کو رفتار میں بدلنے سے روکنا ہے۔

ترک جریدے نے لکھا کہ پاکستان کے موثر ردعمل سے دہشت گردوں کو ان حملوں سے رفتار پکڑنے کے مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی، فوری کارروائیوں اور بعد ازاں چھاپوں نے حملہ آوروں کو اس دھچکے کو مسلسل دبا میں تبدیل کرنے سے روک دیا۔

 

سابق امریکی کرنل جوبوچینوکا تجزیہ کہتاہے کہ بلوچستان میں مبینہ استحصال کے خلاف اور بلوچی عوام کے جائز مطالبات کے حق میں بی ایل اے(بلوچستان لبریشن آرمی) ایک عظیم سیاسی شراکت اور اختیارات کے عدم ارتکاز پر مبنی حکومتی نظام کے لیے کوشش حقیقی معنوں میں نظر نہیں آ رہی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی کہی جا سکتی ہے کہ سیاسی حقوق کی اس جدوجہد کے نام پر کام کرنے کے باوجود یہ گروہ خود سیاسی عمل کا حصہ نہیں ہے اور نہ اسے کبھی عوام میں سیاسی سطح پر پذیرائی حاصل رہی ہے۔عوام میں محرومی کا احساس جتنا بھی زیادہ رہا ہے، پاکستان سے علاحدگی کی خواہش اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت کی طرف نہ ہونے کے برابر مائل رہا ہے۔ آزاد سیاسی جائزوں میں یہ تسلسل کے ساتھ چیز نظر آتی ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنی تمام تر محرومی کے باوجود بیروزگاری کی تمام شکلوں کے باوصف اور گورننس کی سخت ناکامیوں، کرپشن، کمزور حکومتی خدمات اور خوفناک حد تک بد امنی اور عدم تحفظ کے احساس کے باوجود علیحدگی کی طرف مائل نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

امریکی فوج کے سابق افسر نے ”گیلپ ”کے رائے عامہ جائزے کو اس سلسلے میں اہم حوالہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روزگار اور امن و امان کے بڑے ایشوز صوبے میں تشویش کے اہم پہلو ہیں۔ لیکن ان امور کو علاحدگی کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والی ‘بی ایل اے’ اپنے ایجنڈے میں کم ہی جگہ دیتی ہے۔پاکستان کا ایک اور نجی ادارہ PILDAT، جو قانون سازی، ترقی اور شفافیت کے موضوعات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے، کے جائزے اور رپورٹس بھی ‘گیلپ سرویز آف پاکستان’ کے بہت قریب ہیں۔ ان رپورٹس میں بھی سیاسی عدم شراکت داری، وسائل کا غیر مساویانہ استعمال اور تقسیم، کمزور نمائندگی اس عدم تحفظ اور محرومی کے بڑے اسباب بیان کیے جاتے ہیں۔ یہی حقائق سیاسی تحقیقات کے بین الاقوامی تھنک ٹینک PEW کی رپورٹس میں بھی جھلکتے ہیں۔ جن میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کی غالب اکثریت اپنے آپ کو ایک پاکستانی کے طور پر پیش کرتی ہے اور متعارف کراتی ہے نہ کہ نسلی بنیادوں پر متعارف کراتی ہے۔

 

عرب میڈیامیں امریکی عسکری تجزیہ کار نے مزید کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ‘مین سٹریم’ سیاسی قائدین اپنی نظریاتی جہتوں میں فرق ہونے کے باوجود ملک کے آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے معاشی اصلاحات کی بات کرتے ہیں اور وہ اس بات کو بھی واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کی تمنائیں اور کالعدم ‘بی ایل اے’ کے ایجنڈے میں واضح فاصلہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔