بھارت سے عالمی کرکٹ مقابلوں کی میزبانی چھیننے کی خبر کہاں سے آئی
کولمبو/میلبورن: بین الاقوامی کرکٹ میں اس وقت بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جہاں ایک طرف آسٹریلوی اسکواڈ میں اہم تبدیلی کی گئی ہے تو دوسری طرف پاک بھارت سیاسی تناؤ کے باعث عالمی مقابلوں کی میزبانی بھارت سے چھن کر آسٹریلیا منتقل ہونے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، آئی سی سی 2029 کی چیمپئنز ٹرافی اور 2031 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے متبادل میزبان کے طور پر آسٹریلیا کے نام پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ مشاورت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان نے حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی، جس سے آئی سی سی کو 250 ملین ڈالر کے ممکنہ مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اگرچہ طویل مذاکرات کے بعد یہ میچ منعقد ہوا، لیکن اس صورتحال نے عالمی کرکٹ کے منتظمین کو ہنگامی بنیادوں پر “بیک اپ” مقامات تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں؛ بھارت پاکستان میں کھیلنے کو تیار نہیں، پاکستان بھارت جانے سے گریزاں ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں سیاسی مداخلت اور بھارت کے ساتھ ان کے حالیہ تنازعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر آئی سی سی اب بھارت کو میزبانی دینے کے بجائے آسٹریلیا جیسے مستحکم ملک کو ترجیح دے سکتی ہے، جس نے 2015 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچوں کی کامیاب میزبانی کر کے بھاری ریونیو پیدا کیا تھا۔ آسٹریلوی ٹائم زون کو جنوبی ایشیائی مارکیٹ کے لیے کمرشل لحاظ سے بہترین سمجھا جاتا ہے، جو براڈکاسٹرز کے لیے ایک محفوظ انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، آسٹریلوی ٹیم میں بھی ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں اسٹار بیٹر اسٹیو اسمتھ کو جوش ہیزل ووڈ کی جگہ باضابطہ طور پر ٹی 20 ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ سلیکٹر ٹونی ڈوڈیمائڈ کے مطابق، مچل مارش اور مارکس اسٹونیس کی فٹنس کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث تجربہ کار اسٹیو اسمتھ کو سری لنکا بلا کر متحرک کیا گیا ہے تاکہ وہ انتخاب کے لیے دستیاب رہیں۔ آئی سی سی قوانین کے تحت میچ سے ایک دن پہلے تبدیلی کی منظوری ضروری تھی، جو اب مکمل کر لی گئی ہے۔ کرکٹ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو بھارت سے عالمی ایونٹس کی منتقلی نہ صرف مالی استحکام کے لیے ضروری ہو گی بلکہ کرکٹ کے عالمی ایکو سسٹم کو بائیکاٹ جیسے بڑے بحرانوں سے بچانے کا واحد راستہ ہوگی۔