پنجاب حکومت کی جانب سے اربوں روپے مالیت کا لگژری طیارہ خریدنےکا انکشاف

February 18, 2026 · اہم خبریں, قومی

 لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے ’وی آئی پی ٹرانسپورٹ‘ کے لیے کروڑوں ڈالرز مالیت کا لگژری طیارہ خریدنے کے دعووں نے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حساس معاملے پر صوبائی حکام نے تاحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق خبریں شیئر کرنے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’اسٹریٹ کام بیورو‘ کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے 2019 کا تیار کردہ ’گلف اسٹریم GVII-G500‘ طیارہ حاصل کر لیا ہے، جس کی تخمینہ قیمت 38 ملین سے 42 ملین ڈالرز (تقریباً 11 سے 12 ارب پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طیارے کا موجودہ رجسٹریشن نمبر N144S ہے جسے جلد ہی پاکستانی رجسٹریشن میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے مطابق یہ طیارہ 12 فروری سے پنجاب کے مختلف ہوائی اڈوں کے درمیان پروازیں بھی کر رہا ہے۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ طیارہ فی الحال ایک ٹرسٹی کمپنی کی ملکیت ہے جو عام طور پر غیر ملکی شہریوں یا رازداری کے خواہش مند خریداروں کے لیے طیاروں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

ان سنگین دعووں کی تصدیق یا تردید کے لیے جب پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کالز اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب ایڈیشنل سیکرٹری (ویلفیئر) وسیم حامد نے طیارے کی خریداری کی تردید تو کی لیکن مزید تفصیل بتانے سے قبل ہی کال منقطع کر دی۔

حکومت کی اس خاموشی پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے سخت تنقید کی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جب پاکستانیوں سے قربانیاں مانگی جا رہی ہیں، تو پنجاب کے وی آئی پیز لگژری پرائیویٹ جیٹ میں اڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔” محمد زبیر نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا ایک ایسی قوم جہاں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، 1000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے طیارے کی عیش و آرام کی متحمل ہو سکتی ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ خبر درست نہیں تو حکومتِ پنجاب فوری طور پر اس کی باضابطہ تردید جاری کرے۔