2014 کے’’عوامی انقلاب‘‘مشکوک ہوگئے۔اسرائیلی ہاتھ کے اشارے

February 18, 2026 · امت خاص

 

افریقہ کے وسائل پر اسرائیل کی پرانی نظریں تھیں، اور متحدہ عرب امارات بھی اس کے ساتھ تعاون کنندہ تھا، اسرائیل کو 15 ستمبر 2020 کو ابراہیمی معاہدہ میں تسلیم کرنے سے بہت پہلے متحدہ عرب امارات کے تل ابیب کے ساتھ روابط تھے، اور اس میں اہم کردار جیفری ایپسٹین کا تھا، جو عملی طور پر اسرائیل اور یو اے ای کے شاہی خاندان کی ملکیتی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے درمیان رابطہ کار تھا،

واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز میں کم عمر لڑکیوں سمیت دیگر معاملات سامنے آنے پر چند روز قبل ڈی پی ورلڈ کے دو دہائیوں سےسربراہ سلطان احمد بن سلیم کو استعفیٰ دینا پڑا ہے، کیوں کہ بیرونی سرمایہ کاروں نے کمپنی سے ہاتھ کھینچنا شروع کردیا تھا، اور ناروے کے پنشن فنڈ نے تو تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا،

ای میلز میں 2014 میں یوکرین، شام ، صومالیہ اور لیبیا میں عوامی انقلابات کے نام پر بدامنی کا بھی تذکرہ ہے، اور انہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے یہ ان ممالک میں یہ سب کچھ فطری نہیں ہورہا تھا، بلکہ اس کے پیچھے کچھ عالمی کھلاڑی تھے، اور ایپسٹین اور اسرائیل بھی ان میں سے ایک ہوسکتے ہیں، ان ممالک میں بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے ایپسٹین نے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک کو لکھا کہ یہ حالات “کیا آپ کے لیے موزوں نہیں؟” جس پر باراک نے جواب دیا کہ “کسی حد تک درست، مگر اسے آمدنی میں بدلنا آسان نہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کی گئی ایپسٹین کی ای میلز سے متعلق 30 لاکھ دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جیفری ایپسٹین متحدہ عرب امارات کی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ کے لیے نائجیریا میں انفراسٹرکچر معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دوسری جانب نائیجیریا کو اسرائیلی سیکورٹی آلات فروخت کرانے کیلئے لابنگ کررہا تھا، ان ای میلز سے یہ بھی شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نائیجیریا سمیت بعض افریقی ممالک میں برسوں سے جاری مسلح تنظیموں کی شورش کے پیچھے بھی اسرائیل سمیت عالمی کھلاڑیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے، 2018 کی گرمیوں میں ہونے والی ای میل کے مطابق ایپسٹین نے نائجیریا کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ کے اُس وقت کے چیئرمین جائڈ زائٹلِن اور ڈی پی ورلڈ کے سابق چیئرمین سلطان احمد بن سلیم کے درمیان لاگوس اور باداگری (Badagry) میں شپنگ ٹرمینلز کے قیام پر بات چیت کروائی۔

تاہم ڈی پی ورلڈ کی قیادت نائجیریا کے صنعتی زون میں سرمایہ کاری پر اس وقت تک آمادہ نہیں تھی جب تک اسے متعلقہ بندرگاہ کی مکمل ملکیت نہ مل جائے۔ تاہم 2005 تک نائجیریا کے مختلف صدور کے ساتھ ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی تھی، کیوں کہ نائیجیرین رہنما بندرگاہ یو اے ای کو دینے کیلئے تیار نہیں تھے۔ایپسٹین نے اس معاملے میں سابق امریکی صدر اوباما کے دور کی وائٹ ہاؤس میں قانونی مشیر کیتھرین روملر کو بھی شامل کرنے کی پیشکش بھی کی، جنہوں نے حال ہی میں گولڈمین سا شے کے چیف لیگل آفیسر کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ ای میلز کے مطابق بن سلیم اور ایپسٹین ایک دہائی سے زائد عرصے تک ساتھ کام کرتے رہے اور 2020 کے ابراہیمی معاہدوں سے پہلے ہی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں میں شریک رہے۔ ستمبر 2018 میں جب جبوتی نے مشرقی افریقہ میں ڈی پی ورلڈ کے مرکز کو قومی تحویل میں لے لیا تو زائٹلِن نے ایپسٹین کو لکھا کہ اسے امید ہے کہ “تل ابیب میں آپ کے دوست کا قیام افریقہ میں اس کی کوششوں سے زیادہ مؤثر رہا ہوگا۔ایپسٹین کی موت کے بعد ڈی پی ورلڈ نے 2022 میں نائجیریا کی ایک لاجسٹکس کمپنی میں کنٹرولنگ حصص حاصل کیے اور گزشتہ سال سے لاگوس میں اپنی سرگرمیاں بڑھانا شروع کیں۔

ای میلز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین افریقہ میں مسلح تنازعات سے مالی فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ نائجیریا میں ڈی پی ورلڈ کی رسائی پر مذاکرات کے ساتھ ساتھ وہ زائٹلِن کو امریکی پابندیوں سے بچنے کے طریقوں پر بھی مشورہ دے رہا تھا۔ اسی طرح کانگو میں کنشاسا کی کانوں کے حوالے سے اسرائیلی کان کنی کی کاروباری شخصیت ڈین گرٹلر کے ساتھ معاملات پر بھی ای میلز میں تذکرہ موجود ہے، ایپسٹین کے افریقہ میں اسرائیلی کان کنی اور عسکری اداروں سے گہرے روابط تھے، جنہیں وہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کے ساتھ مل کر فروغ دیتا رہا۔ باراک اور ایپسٹین کے درمیان تقریباً روزانہ ای میل رابطہ رہتا تھا۔ 2014 میں یوکرین، شام ، صومالیہ اور لیبیا میں عوامی انقلابات کے نام پر بدامنی کے تناظر میں ایپسٹین نے باراک کو لکھا کہ یہ حالات “کیا آپ کے لیے موزوں نہیں؟” جس پر باراک نے جواب دیا کہ “کسی حد تک درست، مگر اسے آمدنی میں بدلنا آسان نہیں۔

(یہ خبر آج کے امت اخبار میں شائع ہوئی)