ایلومیناتی کو بڑا دھچکا- برطانوی پولیس فری میسنز کو بے نقاب کرنے لگی

February 18, 2026 · امت خاص

 

برطانیہ کی سب سے بڑی پولیس فورس میٹروپولیٹن پولیس (Met) کے خلاف فری میسنز (Freemasons) کی قانونی چارہ جوئی کی کوشش ناکام ہو گئی ۔ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت پولیس کو اپنی موجودہ یا ماضی کی رکنیت ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 

عدالت نے 17 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ قانونی چارہ جوئی کی بنیاد میں کوئی دم نہیں ، اور پولیس افسران کے لیے اپنے فرائض کی درست انجام دہی کے لیے ایسی معلومات کا انکشاف ناگزیر ہے۔

 

مسٹر جسٹس چیمبرلین نےفیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میٹروپولیٹن پولیس کے لیے یہ فیصلہ قانونی اور جائز ہے کیونکہ اس کا مقصد پولیس پر عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا اور اسے مزید بہتر بنانا ہے۔جج کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد پولیس افسران کے کام میں ممکنہ جانبداری یاخفیہ اثر و رسوخ کے شک کو ختم کرنا ہے۔ عدالت نے فری میسنز کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ پالیسی ان کے خلاف امتیازی سلوک یا تضحیک کا باعث ہے۔

 

میٹروپولیٹن پولیس نے دسمبر میں اپنی ڈیکلیر ایبل ایسوسی ایشنز(قابلِ اظہار وابستگی) کی پالیسی میں ترمیم کی تھی۔ اب افسران کے لیے ایسی کسی بھی تنظیم کی رکنیت (ماضی یا حال) ظاہر کرنا ضروری ہے جو خفیہ ہو، جس میں عہدوں کا نظام (Hierarchical) ہو اور جہاں ممبران ایک دوسرے کی حمایت اور تحفظ کے پابند ہوں۔
اب تک تقریباً 400 پولیس افسران اور عملہ اپنی رکنیت ظاہر کر چکے ہیں۔

 

لندن میٹروپولیٹن پولیس سروس کے سینیئر افسر کمانڈر سائمن میسنجر نے کہا کہ جرائم کے متاثرین کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ تحقیقات کسی خفیہ وابستگی سے متاثر نہیں ہو رہی ہیں۔ ہم نے کسی بھی تنظیم کی رازداری کے مقابلے میں انصاف اور شفافیت کو ترجیح دی ہے۔

 

تنظیم کے وکلاء نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سازشی نظریات پر مبنی قرار دیا۔ ان کا موقف ہے کہ اس سے ممبران کے ساتھ امتیازی سلوک ہو سکتا ہے، جسے وہ بلیک لسٹ قرار دیتے ہیں۔