عیسائیوں کے روزوں، چینی نئے سال اور رمضان کا ایک ساتھ آغاز
اس مرتبہ جہاں 18 فروری سے سعودی عرب سمیت کئی مسلم ممالک میں رمضان المبارک کا آغاز ہوا ہے وہیں عیسائی دنیا کے لیے روزوں یعنی لنٹ کا 40 دن کا عرصہ بھی 18فروری کو ہی شروع ہوگیا ۔
رمضان کا آغاز دو دیگر وجوہات کی بنا پر بھی منفرد تھا۔ اسی دن چین اور دیگر ایشیائی ملکوں کیلئے نیا قمری سال شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی قطب جنوبی(انٹارکٹیکا) کے برفانی مناظر میں منگل کے روز ایک نایاب فلکیاتی واقعہ رونما ہوا جہاں سورج کو گرہن لگنے سے آسمان پر ایک روشن دائرہ یعنی ‘رنگ آف فائر’ (Ring of Fire) بن گیا۔ اس موقع پر سورج کا تقریبا 96 فیصد حصہ ڈھک گیا تھا۔
رنگ آف فائرایک اینولر'(Annular)سورج گرہن تھا، جو اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے اپنے بعید ترین فاصلے پر ہونے کی وجہ سے سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا۔ اس کے نتیجے میں چاند کے سیاہ سائے کے گرد سورج کی بیرونی سطح ایک سنہری انگوٹھی یا دہکتے ہوئے دائرے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق یہ سورج گرہن ایک ایسے وقت میں ہوا جب دنیا بھر میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے اہم ایام ایک ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔یہ مکمل ‘رنگ آف فائر’ صرف انٹارکٹیکا کے دور افتادہ علاقوں میں دیکھا جا سکا جہاں چند سائنسی تحقیقی مراکز موجود ہیں۔ تاہم، جنوبی افریقہ، چلی اور ارجنٹائن کے کچھ حصوں میں جزوی سورج گرہن کا مشاہدہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا نایاب فلکیاتی اور ثقافتی ملاپ دہائیوں میں کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ گرہن نئے چاند’ (New Moon)کے مرحلے پر ہوا ہے۔ یہی وہ نیا چاند ہے جس کے ایک دن بعد ہلال(پہلی کا چاند)نظر آیا، جو دنیا کے بیشتر حصوں میں رمضان المبارک کے آغاز کی علامت بنا۔
چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں منایا جانے والا قمری نیا سال(سالِ اسپ)بھی اسی نئے چاند سے جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح عیسائی مذہب میں روزوں اور توبہ کے ایام لینٹ کا آغاز بھی ہو رہا ہے۔