گل پلازہ آتشزدگی کے بعد انسانی باقیات پیکٹوں میں ڈال کر تابوتوں میں رکھی گئی تھیں۔ ڈاکٹر
گل پلازہ تحقیقاتی کمیشن کے روبرو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سول ہسپتال کراچی کی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ 17 جنوری کوہفتے کی رات گل پلازہ سانحہ پیش آیا ، اتوار کی صبح چھ لاشیں سول ہسپتال لائی گئیں جو قابل شناخت تھیں ،اس کے علاوہ آٹھ مریض لائے گئے جو جھلسے ہوئے تھے۔19 جنوری کو 15، 20 جنوری کو نو اور 21 کو 22 لاشیں ہسپتال لائی گئیں۔
ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق 20 جنوری کو انسانی اعضاء ٹکڑوں کی صورت میں ملے جو کل پانچ لاشیں تھیں۔یہ انسانی باقیات پیکٹوں میں دی گئیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جاں بحق ہونے والوں کی اصل تعداد 73 سے زیادہ ہو سکتی ہے؟ جس پر ڈاکٹر سمیہ سید نے اتفاق کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 1400 سے 1600 ڈگری پر اگر دو گھنٹے آگ لگی رہے تو لاش ناقابل شناخت ہو جاتی ہے ، یہاں تو آگ 36 گھنٹے تک لگی رہی۔
ڈاکٹر سمیہ کا کہنا تھا کہ میں نے جن لاشوں کا معائنہ کیا ان میں سے چھ کے مرنے کی وجہ گھٹن تھی اور یہ مکمل لاشیں تھیں۔انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو باقیات پیکٹس میں ڈال کر تابوت میں کفن کے ساتھ حوالے کی گئیں۔