دریائے چناب پر بھارتی ڈیم کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ
امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وادیٔ چناب میں بھارت کی تیز رفتار ڈیم سازی سے 20 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ماحولیاتی توازن شدید خطرے میں پڑگیا ہے۔ پہاڑوں کے اندر دھماکوں سے گھروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور قدرتی چشمے خشک ہو رہے ہیں، جسے گرین انرجی کا نام دے کر مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
جریدے نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت رن آف ریور کی آڑ میں بھاری کنکریٹ کے ڈھانچے بنا کر پانی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ زلزلہ خیز خطے میں فالٹ لائنز کو نظر انداز کر کے بنائے جانے والے یہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہیں، جو کسی بھی وقت زیریں علاقوں کے لیے بڑے انسانی اور ماحولیاتی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارت نے وادیٔ چناب میں اپنے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو غیر معمولی رفتار سے مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ امریکی جریدےفارن پالیسی (Foreign Policy) اور دیگر حالیہ بین الاقوامی رپورٹس (بشمول 2025-26 کے تجزیات) کے مطابق، بھارت ان منصوبوں کو’’گرین انرجی‘‘کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن ان کے پیچھے چھپے انسانی اور تزویراتی (Strategic) مقاصد خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
بھارتی انتظامیہ کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ان ڈیموں کی تعمیر سے مقامی آبادی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ چناب کے بالائی علاقوں، بالخصوص ضلع کشتواڑ اور رام بن میں20 ہزارسے زائد افراد براہِ راست بے گھر ہو چکے ہیں۔صرف سوالکوٹ (Sawalkot) ڈیم کے نتیجے میں تقریباً6ہزارسے زائد مقامی افراد کے گھر اور زمینیں پانی میں ڈوبنے کا خدشہ ہے، درجنوں دیہات نقشے سے مٹ چکے ہیں۔
پہاڑوں میں مسلسل دھماکوں (Blasting) سے ارد گرد کے ہزاروں گھروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، جس سے یہ علاقے انسانی رہائش کے لیے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔
چناب کا پانی پاکستان کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (Live Storage) میں اضافے سے درج ذیل پاکستانی زیریں علاقے براہِ راست خطرے میں ہیں۔
ہیڈ مرالہ سیالکوٹ اورگجرات میں پانی کی آمد میں اچانک 90 فی صد تک کمی یا سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے۔خانکی بیراج گوجرانوالہ، حافظ آباد گندم اور چاول کی فصلوں کے لیے پانی کی شدید قلت ہوسکتی ہے۔
قادر آباد بیراج منڈی بہاالدین کے متاثرہونے سے زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے اور آبپاشی نظام پراثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تریموں بیراج سے جھنگ، خانیوال جنوبی پنجاب تک پانی کی رسائی میں رکاوٹ آئے گی۔بھارت اس وقت چناب پر کئی بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کی ڈیڈ لائن دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
پاکل دل (Pakal Dul):1ہزارمیگاواٹ کا یہ منصوبہ چناب کے سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔
کیرو (Kiru) 624 میگاواٹ کے اس منصوبے کی بلندی 135 میٹر ہے جو پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
1856میگاواٹ کا سوالکوٹ (Sawalkot) پراجیکٹ سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھارت کو پانی روکنے کی غیر معمولی صلاحیت دیتا ہے۔
ماحولیاتی اور جغرافیائی خطرات بھی ہیں۔وادیٔ چناب ایک فعال فالٹ لائن پر واقع ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق، اتنے بڑے کنکریٹ ڈھانچے اور پانی کا دباؤ کسی بھی وقت زلزلے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ زیریں علاقوں میں ڈیم ٹوٹنےجیسے بڑے انسانی المیے کا خطرہ ہے۔
قدرتی چشموں کا خشک ہونا اور دریا کے درجہ حرارت میں تبدیلی مقامی نباتات اور آبی حیات (خصوصاً مچھلیوں) کے خاتمے کا باعث بن رہی ہے۔
بھارت نے2025کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل یا اس میں یکطرفہ ترمیم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔
فارن پالیسی کے مطابق، بھارت اب پانی کو’’تزویراتی ہتھیار‘‘ (Strategic Weapon) کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔بھارت کی یہ گرین انرجی مہم درحقیقت ایک ماحولیاتی اور انسانی بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
ان منصوبوں کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جاری کارروائیاں
بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور مستقل عدالت برائے ثالثی (Permanent Court of Arbitration – PCA) میں ان منصوبوں کے خلاف قانونی جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ بھارت کے یہ منصوبے محض بجلی بنانے کے لیے نہیں بلکہ پانی ذخیرہ کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے ہیں، جو 1960 کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس قانونی تنازع کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
کشن گنگا اور رتلے (Ratle) منصوبوں پر تنازع۔
اگرچہ تازہ ترین تنازع چناب کے منصوبوں (پاکل دل اور کیرو) پر ہے، لیکن اس کی بنیاد کشن گنگا (دریائے جہلم) اور رتلے (دریائےچناب) پر رکھی گئی قانونی چارہ جوئی ہے۔
پاکستان کا اعتراض یہ ہے کہ ان ڈیموں کا ڈیزائن ایسا ہے کہ بھارت ضرورت پڑنے پر پانی کا بہاؤ روک سکتا ہے یا اچانک چھوڑ کر سیلاب لا سکتا ہے۔
بھارت اسے رن آف ریور (Run-of-the-River) قرار دے کر دفاع کرتا ہے، لیکن ڈیزائن میں موجود گیٹڈ سپل ویز (Gated Spillways) اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
2023 سے اب تک یہ معاملہ ایک منفرد قانونی پیچیدگی کا شکار ہے۔
ثالثی عدالت (PCA)۔ پاکستان کی درخواست پر دی ہیگ (The Hague) میں ایک عالمی ثالثی عدالت قائم کی گئی ہے۔ جولائی 2023 میں اس عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ وہ اس تنازع کو سننے کا مکمل اختیار رکھتی ہے، جس نے بھارت کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا کہ یہ معاملہ صرف غیر جانبدار ماہر(Neutral Expert) حل کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، بھارت نے عالمی بینک سے الگ غیر جانبدار ماہرمقرر کرایا ہے۔
دو مختلف فورمز پر ایک ہی کیس چلنے سے متضاد فیصلے آنے کا خدشہ ہے، جسے بھارت اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت نے حالیہ مہینوں میں (2025-26 کے دوران) پاکستان کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے ہیں کہ وہ 64 سال پرانے سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کرنا چاہتا ہے۔بھارت کا ارادہ ہے کہ وہ تبدیل شدہ جغرافیائی اور ماحولیاتی حالات کا بہانہ بنا کر پاکستان کے حصے کے دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) پر اپنے حقوق میں اضافہ
کرے۔
ماہرین کے مطابق بھارت عالمی عدالت میں جاری کیسز کو کمزور کرنے کے لیے اس معاہدے کو ہی ختم کرنے یا بدلنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
’’فارن پالیسی ‘‘کی حالیہ رپورٹ نے عالمی سطح پر اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کیونکہ یہ صرف دو ملکوں کا تنازع نہیں رہا بلکہ انسانی حقوق (20 ہزار افراد کی بے گھری) اور ماحولیاتی تباہی کا کیس بن چکا ہے۔ عالمی بینک (World Bank)، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، پر شدید دباؤ ہے کہ وہ بھارت کو ان منصوبوں سے روکے جو خطے میں زلزلے اور قحط کا باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جب تک عالمی عدالت کا حتمی فیصلہ آتا ہے، بھارت ان منصوبوں کی تعمیر (جیسے پاکل دل) مکمل کر چکا ہوگا۔ اگر یہ ڈیم مکمل ہو گئے، تو بھارت کے پاس بٹن دبانے کی طاقت ہوگی جس سے پنجاب کی زراعت کو بنجر بنایا جا سکتا ہے۔،جنگی صورتحال میں زیریں علاقوں کو ڈبویا جا سکتا ہے۔
رن آف ریور (Run-of-the-River) منصوبوں کے نام پرتیکنیکی چالاکیاں
بھارت رن آف ریور (Run-of-the-River) منصوبوں کے نام پر جو تکنیکی چالاکیاں کرتا ہے، وہ بظاہر تو بجلی بنانے کے لیے لگتی ہیں، لیکن ان کا ڈیزائن’’سندھ طاس معاہدے‘‘کی روح کے خلاف ہے۔سادہ الفاظ میں رن آف ریور کا مطلب ہے کہ دریا کا پانی آئے، ٹربائن گھمائے اور دوسری طرف سے نکل جائے (یعنی پانی ذخیرہ نہ کیا جائے)۔ لیکن بھارت نے اس میں تین بڑے تکنیکی حربے شامل کر لیے ہیں۔
گہرے سپل ویز (Deep Orifice Spillways) سب سے خطرناک تیکنیکی پہلو ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت، بھارت کو مغربی دریاؤں (چناب، جہلم) پر ایسے گیٹ بنانے کی اجازت نہیں جو دریا کی تہہ کے قریب ہوں۔ بھارت ڈیم کے نچلے حصے میں بڑے گیٹ (Sluice Gates) بناتا ہے۔ن گیٹس کے ذریعے بھارت جب چاہے دریا کا پورا بہاؤ روک سکتا ہے (پانی ذخیرہ کرنے کے لیے) یا جنگی صورتحال میں اچانک سارا پانی چھوڑ کر پاکستان میں مصنوعی سیلاب لا سکتا ہے۔
معاہدے کے تحت بھارت صرف اتنا پانی روک سکتا ہے یعنی پونڈج (Pondage) کی گنجائش میں اضافہ، جو بجلی بنانے کے لیے ضروری ہو، لیکن وہ ڈیزائن میںڈیڈ اسٹوریج کے نام پر بہت زیادہ گنجائش پیدا کر دیتا ہے۔چناب پر بنائے گئے حالیہ ڈیموں (جیسے پاکل دل) میں اتنی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وہ موسمِ سرما میں، جب دریا میں پانی کم ہوتا ہے، کئی دنوں تک پاکستان کا پانی مکمل بند کر سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان کی ربیع کی فصلیں (گندم وغیرہ) تباہ ہو سکتی ہیں۔
بھارت اکثر ڈیم کی دیوار کی بلندی ضرورت سے زیادہ رکھتا ہے۔تڈیم جتنا اونچا ہوگا، اس کے پیچھے پانی کا دباؤ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
چناب کے زلزلہ خیز خطے میں اتنی بلندی اور پانی کا ذخیرہ ریزروائر انڈیوسڈ سیسمیسٹی (RIS) کا باعث بن سکتا ہے، یعنی پانی کے بوجھ سے خود بخود زلزلہ آ سکتا ہے جو پورے خطے کو تباہ کر سکتا ہے۔
بھارتی اقدامات کے پیچھے تزویراتی مقاصد اورپاکستانی آپشنز
بھارت کے سابق آبی حکام کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ ان اقدامات کے سیاسی اور معاشی مقاصد ہیں۔
کشمیر کے مسئلے یا دیگر سیاسی تنازعات پر پاکستان کو آبی محاذ پر بلیک میل کرنا اورزراعت کی تباہی۔پانی کی فراہمی میں محض 10 دن کا تعطل بھی پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔پاکستان کے اپنے ہائیڈرو پاور منصوبے (جیسے منگلا یا تربیلا) بھی متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پانی کی آمد غیر یقینی ہو جائے گی۔
پاکستان کے پاس اب محدود آپشنز ہیں۔ مستقل عدالتِ ثالثی (PCA) میں کیس کی بھرپور پیروی اورٹیکنالوجی کا استعمال۔ سیٹلائٹ کے ذریعے بھارت کے ڈیموں کی مسلسل نگرانی تاکہ پانی روکنے یا چھوڑنے کا پہلے سے پتہ چل سکے۔ پاکستان کو اپنے علاقوں میں چھوٹے ڈیم اور بیراج بنانے ہوں گے تاکہ بھارت کی جانب سے اچانک چھوڑے گئے پانی کو سنبھالا جا سکے۔