دوسری عراق جنگ کے بعد خطے میں امریکی فوج کی سب سے بڑی صف بندی

February 19, 2026 · امت خاص

 

2003کے عراق حملے کے بعد خطے میں امریکہ کی سب سے بڑی فوجی صف بندی دیکھی جارہی ہے ، امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکہ پیمانے پر فضائی قوت اکٹھا کر رہا ہے۔ اس میں F-35، F-22 اور F-16 جیسے جدید لڑاکا طیارے اور دو بیڑے شامل ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ “F/A-18 Super” طیارے بحیرہ عرب میں طیارہ بردار بحری جہاز ”لنکن”پر اترے ہیں۔ امریکی بحریہ کے ایک عہدے دار نے اعلان کیا کہ اس وقت مشرق وسطی اور مشرقی بحیرہ روم میں 13بحری جہاز موجود ہیں۔اسی طرح امریکی عہدیداروں نے واضح کیا کہ خطے میں حالیہ موجودگی، ہفتوں تک فضائی جنگ شروع کرنے کا راستہ ہموار کرتی ہے۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ یہ طاقت امریکہ کو محدود حملے کے بجائے ایران کے خلاف ہفتوں تک مسلسل فضائی جنگ جاری رکھنے کا آپشن فراہم کرے گی۔ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کو ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کی صورت میں فوجی اختیارات کے بارے میں کئی بریفنگز دی گئی ہیں۔

 

یہ بیانات ڈونلد ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت انتباہ جاری کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے ایران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے یا ڈیاگو گارسیا بیس کے استعمال کے درمیان انتخاب کا اختیار دیا، اور ان کا مقصد واضح طور پر فوجی آپشن تھا۔

 

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو امریکہ کے لیے ڈیاگو گارسیا بیس کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے۔

سی این این کے مطابق اسرائیل نے فوجی الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے اور خدشہ ہے کہ ایران پر حملہ آئندہ چند دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ تعاون سے ہو سکتا ہے۔ ایران نے فضائی نیویگیشن نوٹس کے ذریعے ملک کے جنوبی حصوں میں میزائل داغنے کی منصوبہ بندی ظاہر کی ہے، بحیرہ عمان میں روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں بھی طے ہیں۔

 

ایک اعلی سطح کے امریکی عہدے دار کے مطابق توقع ہے کہ ایران اس بارے میں ایک تحریری تجویز پیش کرے گا کہ جنیوا میں امریکی ایرانی مذاکرات کے بعد واشنگٹن کے ساتھ تصادم سے کیسے بچا جائے۔عہدے دار نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے اعلی مشیروں نے ایران کے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے وائٹ ہائوس کے سچویشن روم میں ملاقات کی۔ انہیں مطلع کیا گیا کہ خطے میں تمام امریکی افواج کی تعیناتی 15مارچ تک مکمل ہونی چاہیے۔

 

وزیر خارجہ مارکو روبیو 28فروری کو اسرائیل میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہائوس نے اشارہ دیا تھا کہ توقع ہے کہ ایرانی اگلے دو ہفتوں کے دوران مزید تفصیلات کے ساتھ(مذاکرات میں) واپس آئیں گے۔

 

وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے لیے معاہدہ کرنا دانش مندی ہو گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ نمٹنے میں ڈپلومیسی اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا آپشن ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا خیال تھا کہ حملے کی کارروائی کے حق میں کئی وجوہات اور دلائل موجود ہیں۔