غزہ قتل عام کرنیوالے اسرائیلی فوجیوں کیلئے بھارت میں عیاشی کا اہتمام

February 19, 2026 · امت خاص

 

بھارت ، غزہ کے بچوں اور فلسطینییوں کے قاتلوں کی پناہ گاہ بن گیا۔اسرائیلی فوج ذہنی سکون کے لیے چھٹیاں گزارنے بھارت جاتے ہیں۔ہرسال 50 تا80ہزار اسرائیلی بھارت کا سفرکرتے ہیں۔گوا، ہماچل، دھرم کوٹ، پشکر اور کسول کے علاقے سرائیلی فوجیوں کے بحالی مرکزبن چکے ہیں۔دھرم شالہ میں باقاعدہ ایک اسرائیلی علاقہ ہے جسے منی اسرائیل کہا جاتا ہے۔

 

بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے مطابق ،پشکر میں دکاندار عبرانی زبان بولتے ہیں اور ڈھابوں پر اسرائیلی کھانا ملتا ہے، اور وارانسی کے ساحلی ریستورانوں پرمینیوز میں پکوانوں کے نام اسرائیلی ذائقوں کے مطابق رکھ دیے گئے ہیں۔

 

روایتی بھارتی قصبوں کو اسرائیلی مسافروں کی سہولت کے مطابق تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کسول میں ایک ایسا اسرائیلی ریستوران بھی ہے جہا ںصرف گوروں کو داخلے کی اجازت ہے۔ مقامی آبادیوں کے درمیان اسرائیل کی یہ مستقل مزاجی مغربی کنارے کی بستیوں کی یاد دلاتی ہے۔۔

 

ان سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو غزہ کی نسل کشی میں ملوث ہونے کی وجہ سے بیرونِ ملک گرفتاری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ہند رجب فاونڈیشن(HRF)جو چھ سالہ فلسطینی بچی کے نام پر ہے جسے غزہ سے باہرجاتے ہوئے گاڑی میں اس کے خاندان سمیت شہید کر دیا گیا تھا،بیرونِ ملک سفر کرنے والے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کی کوششوں میں پیش پیش ہے۔ یہ تنظیم اسرائیلی فوجیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس کی نگرانی کرتی ہے، ان کی پوسٹس کو ٹریک کرکے ان کے نام مع ثبوت عالمی اور ملکی عدالتی حکام کو جمع کراتی ہے۔

 

ایچ آرایف اور دیگر قانونی ماہرین نے دنیا بھر میںبشمول برازیل، تھائی لینڈ اور سری لنکا جیسے اسرائیلی سیاحوں کے مراکزمقدمات کی پیروی کی ہے، لیکن اب تک بھارت ان کوششوں سے محفوظ رہا ہے۔

 

اسرائیلیوں کے یہ بھارتی دورے لیے فوج کے بعد کا لازمی سفر(Post-army rite of passage)ہے۔ فوجی سروس مکمل کرنے پر اسرائیلی حکومت فوجیوں کو ایک بونس دیتی ہے، جسے سابق فوجی اکثر نسل کشی کاذہنی بوجھ ہلکا کرنے اور بین الاقوامی سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 

بھارت نے اسرائیلی جنگی مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانونی راستے تلاش کر لیے ہیں۔ روم اسٹیٹیوٹ (Rome Statute)کا حصہ نہ ہونا بھارت کے لیے سودمند ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ اس معاہدے کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)قائم ہوئی تھی۔ بھارت کی حدود میں بنجمن نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے وارنٹِ گرفتاری کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

 

بھارت نے عالمی دائرہ اختیار (Universal Jurisdiction)کے اصول پر مبہم پوزیشن اپنا کر آئی سی سی کو کمزور کیا ہے۔ یہ اصول کسی بھی ملک کو بین الاقوامی جرائم پر کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے، چاہے جرم کہیں بھی ہوا ہو۔

 

بھارت اس قانونی ذمہ داری سے یہ کہہ کر بچتا ہے کہ یہ اختیار صرف ریاست کے اپنے شہریوں کے لیے ہے، نہ کہ غیر ملکیوں کے لیے۔

ماہرین کے مطابق ، حقیقت یہ ہے کہ، اسرائیلی جنگی مجرموں کے خلاف عالمی کوششوں کا حصہ بننا بھارت کے اپنے معاشی اور نظریاتی مفادات کے خلاف ہوگا۔ 2014 میں برسرِاقتدار آنے کے بعد مودی اور بی جے پی نے اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل سے تعلقات مزید گہرے کیے ہیں۔

ہندوتوا کے بانی ونائک ساورکر کا نظریہ ایک ایسی ہندو راشٹرا (ہندو قوم)کا تھا جو نسل پرستی پر مبنی ہو، بالکل اسی طرح جیسے صیہونیوں کا خواب ایک یہودی ریاست تھا۔ 1920 کی دہائی میں ہی ساورکر نے صیہونی منصوبے سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر صیہونیوں کے خواب پورے ہوئے اور فلسطین ایک یہودی ریاست بن گیا، تو ہمیں اتنی ہی خوشی ہوگی جتنی ہمارے یہودی دوستوں کو۔ ان کے نزدیک پدرِ وطن اور مقدس سرزمین کے تصورات میں مسلمان ایک غیر مقدس عنصر تھے۔

آج مودی کے بھارت نے ہندوتوا کے اسلامو فوبک مظاہر کو تیز کر دیا ہے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی کا عکس اسرائیل میں نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گرفتاری کے خوف سے دوچار اسرائیلی فوجی بھارت کو ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔

یہ مماثلتیں صرف نظریے تک محدود نہیں ۔۔ بھارت کی سیکورٹی اسٹیٹ بھی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔ بھارت کا 2024 کا متنازع شہریت ترمیمی قانون (CAA)، جو مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کو شہریت دیتا ہے، اسرائیل کے 2018 کے ‘یہودی ریاست کے قانون’ سے مشابہہ ہے۔ اسی طرح بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر کی تعمیر اور مساجد کو مندروں سے بدلنے کی مہم، ان یہودی انتہا پسندوں کی کوششوں جیسی ہے جو مسجدِ اقصی کو گرا کر وہاں ہیکلِ سلیمانی بنانا چاہتے ہیں
۔
عسکری میدان میں بھی، جموں و کشمیر کو ایک ایسی پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنا جہاں غیر قانونی قتل و غارت اور اغوا عام ہو، اسرائیل کے غزہ اور مغربی کنارے میں

فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی عکاسی کرتا ہے۔بھارت اور اسرائیل ایک دوسرے کے وحشیانہ قبضے کی باقاعدہ حمایت کرتے ہیں۔ بھارت سالانہ تقریبا 3 ارب ڈالر اسرائیلی میزائلوں اور نگرانی کے آلات پر خرچ کرتا ہے ،وہ ٹیکنالوجی جس کا تجربہ فلسطینیوں پر کیا جا چکا ہے۔ بدلے میں بھارت اسرائیل کو ‘ہرمیس’ (Hermes) جنگی ڈرونز فراہم کرتا ہے جو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ اسلحے اور فوجی ٹیکنالوجی کا یہ تبادلہ دو فاشسٹ حکومتوں کے درمیان نئے اتحاد کا مادی ثبوت ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کی مسلم اکثریت والی مقبوضہ آبادیوں پر دہشت گردی مسلط کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔