سرجیکل رضامندی: مریض اور معالج کے مابین اعتماد اور شفافیت کی ضمانت
ڈاکٹر ظفر اقبال
آپ بھی شاید اس تجربے سے گزرے ہوں کہ کسی ہسپتال میں کسی میڈیکل یا سرجیکل پروسیجر ، آپریشن وغیرہ سے پہلے ایک رضامندی کا فارم آپ کے سامنے لایا گیا ہو۔ اس کی کچھ تفصیل آپ کو بتائی گئی ۔ ممکن ہے ایک دوسرے کو سمجھنے میں کچھ مشکلات بھی پیش آئی ہوں۔ اس فارم کی ضرورت اور اس کے مندرجات نے آپ کو پریشان کیا ہو اور بیماری و علاج اور اس سے متعلق، اندیشوں، تکلیف کی کیفیت میں یہ فارم مزید الجھاوے کا باعث بنا ہو۔
یہ فارم سب کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کیوں۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں طبی علاج صرف ادویات یا سرجری کا نام نہیں بلکہ یہ معالج اور مریض کے درمیان ایک ایسے مقدس رشتے کا نام ہے جس کی بنیاد اعتماد، احترام اور شفافیت پر قائم ہوتی ہے۔ اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ ہسپتالوں میں آپریشن سے قبل ایک فارم پر دستخط کروائے جاتے ہیں، جسے عام طور پر رضامندی فارم (Consent Form) کہا جاتا ہے۔ مریض اور ان کے لواحقین بسا اوقات اسے محض ایک رسمی کاغذی کارروائی سمجھ کر سرسری لیتے ہیں، حالانکہ یہ دستاویز طبی اخلاقیات اور قانونی تحفظ کا سب سے اہم ستون ہے۔
کسی بھی طبی ادارے کی ساکھ کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے مریضوں کے ساتھ شفافیت اور احترام کا رشتہ برقرار رکھتا ہے۔ طبی اخلاقیات میں “رضامندی برائے جراحی” (Surgical Consent)محض ایک رسمی کاغذی کارروائی یا دستخطوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا مقدس قانونی اور اخلاقی عہد نامہ ہے جو مریض، اس کے لواحقین اور معالج کے درمیان اعتماد کی بنیاد رکھتا ہے۔
تفصیلی رضامندی کی اہمیت اور ضرورت
ایک معیاری اور ذمہ دار طبی ادارہ وہی کہلایا جا سکتا ہے جس کے پاس واضح پالیسی، لائحہ عمل اور قواعد و ضوابط موجود ہوں۔ رضامندی کے فارم کی تفصیل اور اس ساری مشق کی اہمیت درج ذیل پہلوئوں سے واضح ہوتی ہے۔
-1باخبر فیصلہ سازی (Informed Decision):یہ مریض کا بنیادی اور قانونی حق ہے کہ اسے تجویز کردہ آپریشن کی نوعیت، اس کی ضرورت اور اسے نہ کروانے کی صورت میں لاحق ہونے والے خطرات سے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے۔ جب مریض متبادل علاج کے طریقوں اور ممکنہ پیچیدگیوں (مثلاً خون کا بہنا یا انفیکشن)کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد دستخط کرتا ہے، تو وہ علاج کے عمل میں ایک بے بس مفرور کے بجائے ایک “فعال شراکت دار” بن جاتا ہے۔
-2غیر متوقع حالات میں پیشہ ورانہ تحفظ:طب اور سرجری میں بسا اوقات ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جو پہلے سے علم میں نہیں ہوتی۔ ایسے ہنگامی حالات میں یہ دستاویز سرجن کو یہ قانونی اور اخلاقی اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے مریض کی جان بچانے کے لیے فوری اقدامات کر سکے۔ اس میں ریڈیولوجی یا پیتھالوجی کے اضافی طریقے بھی شامل ہو سکتے ہیں جو دورانِ جراحی ناگزیر ہو جائیں۔
-3ذمہ داریوں کا واضح تعین:رضامندی کے فارم میں جراحی انجام دینے والے سرجن، معاون عملہ اور اینستھیزیالوجسٹ کی ذمہ داریوں کا واضح ذکر ہوتا ہے۔ یہ عمل اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ادارہ ہر قدم پر طے شدہ قواعد و ضوابط کا پابند ہے اور تمام مراحل میں شفافیت برقرار رکھی جا رہی ہے۔
معیاری اداروں کا طریقہ کار اور ریکارڈ کی حفاظت
وہی مراکز”اسٹیٹ آف دی آرٹ”کہلانے کے حقدار ہیں جہاں ریکارڈ کی ترتیب اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل نکات ایک ادارے کے معیار کی پہچان ہیں۔
مستند ریکارڈ سازی:رضامندی فارم کو مریض کے مستقل میڈیکل ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسے محفوظ رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی طبی ضرورت یا قانونی پہلو کی صورت میں یہ ایک مستند حوالے کے طور پر کام آ سکے۔
قانونی تقاضوں کی تکمیل:مریض کے شناختی کارڈ نمبر، گواہوں کے دستخط اور (نابالغ کی صورت میں) سرپرست کی تصدیق اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی بھی جراحی مریض کی مرضی اور قانونی شناخت کے بغیر انجام نہ پائے۔
پالیسی پر کاربندی:جن شعبہ جات میں ریکارڈ کو محفوظ رکھنے اور شفافیت برتنے پر سختی سے عمل ہوتا ہے، وہاں انسانی غلطی (Human Error) کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔
حاصلِ کلام
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ طب کوئی ریاضیاتی فارمولا نہیں ہے جہاں نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہوں، اس لیے کسی بھی جراحی کے نتائج کی سو فیصد ضمانت ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم، ایک جامع رضامندی فارم کے ذریعے ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ مریض کو تمام پہلوں سے آگاہ رکھا گیا ہے۔
یہی وہ شفافیت اور پیشہ ورانہ دیانت ہے جو ایک عام ہسپتال اور ایک معیاری طبی ادارے کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔ صحت کی سہولیات صرف اس وقت کارگر ثابت ہوتی ہیں جب ان کی بنیاد معیار، احترام اور شفافیتپر رکھی گئی ہو۔