پروڈیوسر عمر مختار پر ہراسانی کے سنگین الزامات، ماڈل ماہ نور رحیم نے پول کھول دی
لاہور/کراچی: پاکستانی ماڈل ماہ نور رحیم نے ٹی وی پروڈیوسر عمر مختار پر خواتین کو نازیبا پیغامات بھیجنے اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی متعلقہ پروڈیوسر سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔
ماہ نور رحیم نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ 2023 میں جب وہ کینیڈا میں تھیں، تو ایک معروف پروڈیوسر نے انہیں رات تین بجے پیغام بھیجا۔ ماہ نور کے مطابق انہوں نے سمجھا کہ شاید کام کے سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے، لیکن مذکورہ شخص صرف ذاتی گفتگو اور گپ شپ میں دلچسپی رکھتا تھا۔
ماڈل نے مزید انکشاف کیا کہ پروڈیوسر نے شادی شدہ ہونے کے باوجود خود کو کوارا (سنگل) ظاہر کیا۔
ماہ نور نے فوری طور پر اس رویے پر احتجاج کیا اور تمام اسکرین شاٹس پروڈیوسر کی اہلیہ کو بھیج دیے۔
پہلی ویڈیو میں نام نہ لینے کے باوجود سوشل میڈیا صارفین نے عمر مختار کی شناخت کر لی، جس کے بعد دوسری ویڈیو میں ماہ نور نے تصدیق کی کہ کئی دیگر خواتین اور کم عمر لڑکیوں نے بھی ان سے رابطہ کر کے عمر مختار کے خلاف اسی طرح کی شکایات کی ہیں۔
ہانیہ عامر کا ردِعمل اور لاتعلقی
عمر مختار، جو شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات (جیسے ماہرہ خان اور ہانیہ عامر) کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے، اب تنقید کی زد میں ہیں۔ اداکارہ ہانیہ عامر، جو اکثر عمر مختار کے ساتھ تقریبات میں دیکھی جاتی رہی ہیں، انہوں نے اس معاملے پر اپنا واضح بیان جاری کیا ہے۔
ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر لکھا:
“میں ہراساں کیے جانے اور خواتین کے استحصال کے خلاف زیرو ٹولرنس (صفر برداشت) کی پالیسی رکھتی ہوں۔ میں ان تمام خواتین کی ہمت کو داد دیتی ہوں جو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔”
اداکارہ نے مزید اعلان کیا کہ وہ اپنی اقدار اور احتساب کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ شخص سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کرتی ہیں اور اب ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔

عمر مختار پاکستان شوبز انڈسٹری کے ایک بااثر پروڈیوسر مانے جاتے ہیں، تاہم ان الزامات اور ہانیہ عامر جیسے بڑے ناموں کی جانب سے دوری اختیار کرنے کے بعد انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ اور اخلاقی معیارات پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔