پارسیوں سے آفریدیوں تک،برطانوی راج میں ہندستانی سماج کے 200 نایاب مناظر
انیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں، فوٹو گرافی برطانوی راج کے لیے ہندوستان کو جاننے اور اس کی درجہ بندی کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن گئی۔دہلی آرٹ گیلری کی جانب سے منعقد کی گئی ایک نئی نمائش میں 1855 سے 1920 کے دورکی ، تقریباً 200 نایاب تصاویر کو سامنے لایاگیاہے۔ اس دورمیںکیمرے کا استعمال کمیونٹیز کی درجہ بندی کرنے، ان کی شناخت کاتعین کرنے اور ہندوستان کے پیچیدہ سماجی فرق کو نوآبادیاتی حکومت کے لیے سمجھنا آسان بنانے کے لیے کیا جاتا تھا۔
65 سال پر محیط یہ نمائش ایک وسیع انسانی جغرافیہ پیش کرتی ہے۔ شمال مشرق کی لیپچا اور بھوٹیا کمیونٹیز سے لے کر شمال مغرب کے آفریدیوں تک؛ اور نیلم گری کے ٹوڈاز سے لے کر مغربی ہندوستان کے پارسی اور گجراتی اشرافیہ تک۔یہ نمائش ان لوگوں پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے جنہیں نوآبادیاتی نظام میں نچلے درجے پر رکھا گیا تھا، جیسے رقاصائیں، زرعی مزدور، حجام اور سپیرے وغیرہ۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ تصاویر صرف ہندوستان کے تنوع کو محفوظ نہیں کر رہی ہیں بلکہ اسے ایک خاص شکل دے رہی ہیں۔ انہوں نے جیتے جاگتے انسانوں کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کو چند مخصوص اور مستحکم اقسام یا ٹائپس میں بدل کر رکھ دیا۔
مورخ سدیشنا گوہا کی زیرِ نگرانی تیار ہونے والی اس نمائش کا مرکز دی پیپلز آف انڈیا (The People of India) کے حصے ہیں، جو 1868 سے 1875 کے درمیان شائع ہونے والا ایک بااثر آٹھ جلدوں کا فوٹوگرافک سروے تھا۔ اس کے علاوہ اس میں سیموئیل بورن، لالا دین دیال، جان برک اورشیفرڈ اینڈ رابرٹسن جیسے فوٹوگرافرز کی تصاویر بھی شامل ہیں، جن کے کام نے اس دور کے تصویری انداز کو ترتیب دینے میں مدد دی۔
آرٹ گیلری کے سی ای او آشیش آنند کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ مواد ہمیں انسانی گروہوں کی فوٹو گرافی کی تاریخ اور برطانوی انتظامیہ اور ہندوستانی عوام پر اس کے اثرات کے بارے میں بتاتا ہے۔ حجم اور گہرائی کے لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کا ایک ایسا منصوبہ ہے جو ہندوستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔