پولن الرجی کی روک تھام اوربچائو کیسے کیا جائے، ایڈوائزری جاری

February 21, 2026 · ہیلتھ

 

وفاقی وزارتِ صحت نے پولن الرجی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں، خصوصاً اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق جڑواں شہروں میں پولن کا موسم عموماً فروری کے وسط یا مارچ کے اوائل میں شروع ہوتا ہے، تاہم درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں یہ سیزن پہلے بھی شروع ہو سکتا ہے۔ مارچ کے اوائل سے وسط تک پولن کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے، جس کے باعث الرجی کے مریضوں کو شدید علامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پولن الرجی کیا ہے؟
پولن الرجی، جسے عام طور پر گھاس بخار یا الرجک ناک کی سوزش کہا جاتا ہے، دراصل درختوں، گھاس اور جڑی بوٹیوں سے خارج ہونے والے باریک زرگل (پولن) کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کا غیر معمولی ردعمل ہے۔ یہ مسئلہ دنیا بھر میں پایا جاتا ہے، تاہم جغرافیائی محلِ وقوع، آب و ہوا اور مقامی نباتات کے لحاظ سے اس کی شدت اور پھیلاؤ مختلف ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد میں بہار کے موسم میں پولن کی بلند سطح کے باعث بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوتے ہیں۔

عام علامات
پولن الرجی کی نمایاں علامات میں شامل ہیں:
بار بار چھینک آنا
ناک بہنا یا بند ہونا
آنکھوں میں خارش اور پانی آنا
گلے میں خراش یا کھانسی
ناک کے پیچھے مواد کا ٹپکنا (پوسٹ نیزل ڈرپ)

شدید صورتوں میں مریض کو سینے میں جکڑن اور سانس لینے میں دشواری بھی پیش آ سکتی ہے، جو فوری طبی توجہ کی متقاضی ہے۔

زیادہ متاثر کرنے والے درخت اور پودے
اسلام آباد میں درج ذیل درخت اور پودے پولن الرجی کا باعث بن سکتے ہیں:

کاغذی شہتوت (سب سے عام سبب)
دیودار
ببول
یوکلپٹس
گھاس کی اقسام (برمودا گھاس، کینٹکی بلیو گراس، ٹموتھی گھاس)
رگ ویڈ
نیٹل
مگ ورٹ
ماہرین کے مطابق ہر فرد میں الرجی کی شدت اور محرکات مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات ظاہر ہونے پر مستند ڈاکٹر یا الرجسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

تشخیص اور علاج
ڈاکٹر جسمانی معائنہ، مریض کی طبی تاریخ اور الرجی ٹیسٹ (جلد یا خون کے ٹیسٹ) کے ذریعے تشخیص کرتے ہیں۔ علاج میں شامل ہو سکتے ہیں:

اینٹی ہسٹامائن ادویات
ناک کے کورٹیکوسٹیرائڈ اسپرے
ڈیکونجسٹنٹس
امیونو تھراپی (الرجی شاٹس یا گولیاں)

الرجی ویکسی نیشن یا امیونو تھراپی کا فیصلہ ماہر معالج مریض کی مجموعی صحت اور علامات کی بنیاد پر کرتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

وفاقی وزارت صحت نے شہریوں کو درج ذیل احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:
روزانہ پولن کی گنتی چیک کریں (محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ [www.pmd.gov.pk](http://www.pmd.gov.pk) پر دستیاب)
پولن کی زیادہ مقدار کے دنوں میں غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں
گھر اور گاڑی کی کھڑکیاں بند رکھیں، خاص طور پر صبح کے وقت
HEPA فلٹرز کے ساتھ ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کریں
باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں
گھر کی باقاعدہ صفائی اور ویکیومنگ کریں
ناک کی نمکین کلی کریں
باہر سے آنے کے بعد شاور لیں تاکہ جسم اور بالوں سے پولن ذرات صاف ہو سکیں

ضلعی انتظامیہ کے اقدامات
ضلعی محکمہ صحت، اسلام آباد نے پولن الرجی کے مریضوں کے لیے شہر میں خصوصی طبی سہولیات قائم کر دی ہیں۔ صحت کے مراکز میں مستند معالجین کو پولن الرجی کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے لیے خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کر کے شہری پولن الرجی کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں اور بہار کے موسم میں معمولاتِ زندگی کو بہتر انداز میں جاری رکھ سکتے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ علامات کی صورت میں خود علاج سے گریز کرتے ہوئے مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔