دنیا کا وہ ملک جہاں جرائم پیشہ مسلح ‘بچہ گینگز’ سرگرم ہیں
براعظم شمالی امریکہ کے کیریبئن خطے کا ایک ملک ہیٹی غربت، مواقع کی کمی اور عدم استحکام کے باعث جرائم پیشہ بچوں کے مسلح جتھوں کا گڑھ بن گیا۔اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے گروہوں میں بھرتی تشویش ناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے جس کے تباہ کن اثرات نہ صرف بچوں بلکہ خاندانوں اور پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
مسلح گروہ دارالحکومت پورٹ او پرنس اور اطراف کے وسیع علاقوں پر قابض ہیں جس کے باعث خاندان بے گھر ہو رہے ہیں۔سکولوں، طبی سہولیات اور بنیادی خدمات محدود ہو گئی ہیں۔نوعمر افراد کو تحفظ دینے کے ادارے یا تو وسائل کی کمی کا شکار ہیں یا سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے جس کے باعث جتھوں کے زیر اثر علاقوں میں کمسن بچے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ، دارالحکومت پورٹ او پرنس اور گردونواح میں کم از کم 26 جرائم پیشہ جتھے سرگرم ہیں۔ یہ گروہ علاقوں پر قبضہ جما کر مقامی آبادی سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور کمزور ملکی سکیورٹی فورسز کے ساتھ بالادستی کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔ یہ جتھے اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے مسلسل نئے افراد، خصوصا ًبچوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جتھوں کی جانب سے بچوں کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ آسانی سے قابو میں آ جاتے ہیں اور ان پر کم شک کیا جاتا ہے۔ اب بھرتی کا عمل وقتی یا اتفاقی نہیں رہا بلکہ کئی علاقوں میں باقاعدہ اور منظم انداز میں جاری ہے۔
بہت سے بچے بھوک، تعلیم کی کمی اور معاشی مجبوری کے باعث جتھوں کا حصہ بنتے ہیں اور بعض کو زبردستی ان میں شامل کیا جاتا ہے۔مزاحمت کرنے والے یا گینگ چھوڑنے کی کوشش کرنے والے بچوں کو تشدد اور موت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دیگر کو پیسوں، منشیات یا ضروریاتِ زندگی کا لالچ دے کر پھانسا جاتا ہے۔ یہ گینگ خاص طور پر ایسے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں جو تحفظ، پہچان اور کسی گروہ سے وابستگی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
جن علاقوں میں ریاست کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہو وہاں مسلح گروہ نوجوانوں کو تحفظ، وابستگی اور آمدن کا جھوٹا احساس دیتے ہیں۔ بے گھر ہونا اور خاندانوں کا بکھر جانا بھی بچوں کی ان جتھوں میں شمولیت کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
بچوں کو مخبر، نگران(چوکیدار)، پیغام رساں اور اطلاع دہندہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت سے بچے مسلح جھڑپوں، ناکے لگانے اور تاوان کے لیے اغوا جیسی کارروائیوں میں بھی براہ راست شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ،لڑکیوں کو جنسی استحصال، زیادتی اور جبری تعلقات جیسے خطرات کا سامنا ہے۔
بھرتی کیے گئے بچے تشدد، صدمے اور بدسلوکی کا شکارہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے اور ذہنی صحت پر گہرے اور طویل المدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سماجی بدنامی اور انتقام کے خوف سے معمول کی زندگی میں ان کی واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں پر جنسی تشدد ان میں صدمے اور معاشرتی تنہائی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
ایسے ہی ایک ” گینگسٹر” جوزف نامی بچے نے بتایا کہ میں ایک ایسے غریب علاقے میں پلا بڑھا جہاں ہر چیز پر گینگز کا قبضہ تھا۔ سڑکوں پر ہر وقت مسلح افراد نظر آتے تھے۔ ان میں سے کچھ نے عمدہ لباس پہنے ہوتے، ان کے پاس شاندار گاڑیاں ہوتیں اور وہ عورتوں کے جھرمٹ میں رہتے۔ وہی لوگ ہمارے محلے میں قانون چلاتے تھے۔
جوزف کے مطابق ،ہم بچوں کے لیے یہ سب معمول کی بات تھی۔ ہمارے پاس کھیلنے کودنے یا کھیلوں کے مواقع نہیں تھے، اور مستقبل کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔ اگست 2024کے آخر میں، میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ ایک گینگ کا حصہ ہے۔ اس نے گینگ سے ملنے والے فائدے بتائے جیسے پیسہ اور معاشرے میںاہم ہونے کا احساس۔ اس نے مجھے بھی شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ میں جانتا تھا کہ یہ خطرناک ہے، لیکن میں نے ایک بار کوشش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔شامل ہوتے ہی ایک گینگ ممبر نے مجھے واکی ٹاکی(ریڈیو)دیا اور پولیس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا کام سونپا۔ پھر گینگ لیڈر نے میرے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیا۔
کچھ عرصے بعد افواہیں اڑیں کہ پولیس بڑا آپریشن کرنے والی ہے، اور مجھے بتایا گیا کہ مجھے ان سے لڑنا ہوگا۔ میں بہت خوفزدہ تھا کیونکہ میں مرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے گینگ لیڈر سے کہا کہ میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر وہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے اپنے ہتھیار سے مجھ پر حملہ کر دیا۔ اس نے مجھے اتنا مارا کہ میرا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر میں نے دوبارہ چھوڑنے کی کوشش کی تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔
اگرچہ میں پولیس کا سامنا کرنے سے ڈر رہا تھا، لیکن میں جلد ہی وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ میرے محلے کے ایک شخص نے مجھے ایک ایسی تنظیم کے بارے میں بتایا جو طبی امداد فراہم کرتی ہے۔ میں نے ان سے رابطہ کیا، اور تب سے وہ کونسلنگ اور دیگر ذرائع سے ان صدمات سے نکلنے میں میری مدد کر رہے ہیں جن سے میں گزرا ہوں۔
ہیٹی طویل عرصہ سے حکومتی، انسانی اور تحفظ کے بحرانوں کا شکار ہے۔ جولائی2021میں صدر جووینیل موئس کے قتل کے بعد سے ہیٹی میں مسلح گروہوں کے تشدد میں ہولناک اضافہ ہوا ، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال (2025)کے دوران تقریباً 5,600افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2024سے یہ صورتحال ایک بدترین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2024ء میں بتایاتھاکہ، ہیٹی میں 10 لاکھ سے زائد بچے ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جو یا تو مکمل طور پر گینگز کے زیرِ اثر ہیں یا ان کے براہِ راست قبضے میں ہیں۔
کیریبین میں جمہوریہ ہیٹی رقبے کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی 1کروڑ 14لاکھ آبادی اسے کیریبین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور شمالی امریکا میں 5 واں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتا ہے۔