پشاور: دہشت گردوں کا حملہ ناکام , جوابی فائرنگ میں 2 دہشت گرد جہنم واصل
پشاور: محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) کی تفتیشی ٹیم پر دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں زیر حراست اہم دہشت گرد کمانڈر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ اور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق تفتیشی ٹیم شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان پر ہونے والے حملے کے جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے زیر حراست دہشت گرد کمانڈر اُسامہ عرف دانیال (عرف باغی) کو لے کر جا رہی تھی۔ اس دوران دہشت گردوں نے اپنے ساتھی کو چھڑانے کے لیے ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ سی ٹی ڈی کی بکتر بند گاڑی گولیوں کی زد میں آئی، تاہم مستعد جوانوں کی جوابی کارروائی کے باعث تمام اہلکار محفوظ رہے۔
دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں زیر حراست کمانڈر اُسامہ عرف باغی اور اس کا ساتھی کامیاب خان عرف اخلاص یار (سکنہ شمالی وزیرستان) ہلاک ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک کمانڈر اسامہ نئی دہشت گرد تنظیم “اتحاد المجاہدین پاکستان” کا فعال رکن اور ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے اے سی شاہ ولی خان، سابق ایس ایچ او عابد وزیر اور مروت قومی تحریک کے تین رہنماؤں کی شہادت میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہوا تھا۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے کلاشنکوف، دو میگزین، دو ہینڈ گرینیڈز، کالعدم ٹی ٹی پی کا کارڈ، شناختی کارڈ اور موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر دہشت گرد اپنے زخمی ساتھیوں کو ساتھ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے کیونکہ جائے وقوعہ پر جگہ جگہ خون کے نشانات پائے گئے ہیں۔
آئی جی پولیس خیبر پختونخوا نے سی ٹی ڈی جوانوں کی بہادری اور بروقت جوابی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے ٹیم کو شاباش دی۔ سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کسی کے سگے نہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے اپنے ہی ساتھیوں پر گولی چلانے سے گریز نہیں کرتے۔ آئی جی پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے محافظوں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔