یوکرین سے جنگ کے 4سال ۔کس کا فوجی جانی نقصان زیادہ؟
یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کو چار سال مکمل ہونے پر اس تنازع کی صورتحال نے جہاں شہریوں کو بے پناہ تکالیف اور فوجیوں کو ہولناک آزمائشوں سے دوچار کیا، وہیں سرد جنگ کے بعد کے حفاظتی نظام کو بھی بدل کر رکھ دیا۔
روس کے یوکرین پر چار سال قبل کیے گئے حملے نے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے سب سے بڑے تنازع کو جنم دیا ہے۔اب یہ لڑائی اپنے پانچویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور اس کے جلد تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی ایک سالہ امن کوششوں کے حصے کے طور پر امریکہ نے ماسکو اور کیف کے وفود کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کے لیے کوشش کی۔ تاہم، روسی قبضے میں موجود یوکرینی زمین کے مستقبل اور جنگ کے بعد یوکرین کی سیکیورٹی جیسے اہم اختلافات پر ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے پیش رفت رکی ہوئی ہے۔اسی دوران، دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی میدانِ جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں، اور یوکرینی شہری روسی فضائی حملوں کی زد میں ہیں، جن کی وجہ سے برسوں سے بجلی اور پانی کی بندش کا سامنا ہے۔
جنگ کے اعداد و شمار پر ایک نظر،24فروری 2022 سے اب تک
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’کے مطابق، دونوں جانب کے ہلاک، زخمی یا لاپتہ فوجیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اندازہ ہے کہ فروری 2022سے دسمبر 2025کے درمیان روس کے 12لاکھ فوجی متاثر ہوئے، جن میں سے 3لاکھ 25ہزارہلاک ہوئے۔ یوکرین کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے 5 سے 6 لاکھ فوجی متاثر ہوئے، جن میں سے 1لاکھ40ہزار ہلاک ہوئے۔اگرچہ صدر زیلینسکی نے سرکاری طور پر 55ہزارہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اب تک کم از کم 12ہزارسے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 763بچے بھی شامل ہیں۔ 2025یوکرینی شہریوں کے لیے 2022 کے بعد سب سے مہلک سال ثابت ہوا، جس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں 31فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وارکے مطابق روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 18فیصد حصے پر قابض ہے۔ گزشتہ ایک سال میں روس نے بھاری جانی و مالی نقصان کے باوجود صرف 0.79 فیصد مزید علاقے پر قبضہ حاصل کیا ہے۔
جرمنی کے کئیل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گزشتہ برس یوکرین کو ملنے والی غیر ملکی فوجی امداد میں نمایاں کمی آئی۔ صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ نے یوکرین کو مفت ہتھیاروں کی فراہمی روک دی ہے، تاہم یورپی ممالک نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنی فوجی امداد میں 67 فیصد اضافہ کیا ہے۔
یوکرین کے 60لاکھ سے زائد شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، جن میں سے 53لاکھ نے یورپ میں پناہ لی ہے۔ اس کے علاوہ تقریبا 37 لاکھ افراد ملک کے اندر ہی بے گھر ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO)کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک طبی سہولیات پر 2,347 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں گزشتہ سال کے دوران 20 فیصد اضافہ ہوا۔اس جنگ نے یوکرین کی 4 کروڑ سے زائد کی آبادی اور پورے خطے کے ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ،اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین پر پڑ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) کی سربراہ برائے انسانی امداد صوفیہ کالٹورپ نے بتایا ہے کہ روس کے حملوں میں یوکرین کی توانائی پیدا کرنے کی 65 فیصد صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ شدید سردی میں حرارت، بجلی اور محفوظ رہائش کی عدم دستیابی نے لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
بجلی کی عدم دستیابی محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ خواتین کی سلامتی، تحفظ اور معاشی استحکام کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ طویل اندھیرے، سٹریٹ لائٹ کی عدم موجودگی اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں خلل سے خواتین کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور انہیں ہراسانی اور حادثات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔بہت سی خواتین تعلیم، صحت اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں جو طویل لوڈشیڈنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ نتیجے کے طورپر یہ خواتین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو رہی ہیں۔
یو این ویمن کی کے مطابق، 2025خواتین کے لیے اس جنگ کا سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا ہے۔ 24فروری 2022 سے اب تک پانچ ہزار سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں ہلاک اور 14ہزار زخمی ہو چکی ہیں، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
صوفیہ کالٹورپ نے بتایا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود یوکرین کی خواتین ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خواتین کی قیادت میں چلنے والی تنظیموں کا انسانی امداد کے عمل میں مرکزی کردار ہے۔ یہ تنظیمیں لاکھوں یوکرینی شہریوں کو تحفظ، نفسیاتی معاونت، ہنگامی امداد اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ تاہم امدادی وسائل میں کمی کے باعث اب خود ان کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
یوکرین میں یو این ویمن کی نمائندہ سبین فریزر گونیز کے مطابق امدادی وسائل میں آنے والی کمی کے باعث ان تنظیموں کو رواں سال کے اختتام تک کم از کم 53.9 ملین ڈالر کا خسارہ ہو گا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو 2026میں اندازاً 63 ہزار خواتین مختلف خدمات سے محروم ہو جائیں گی جن میں جنسی تشدد کی متاثرہ خواتین کی مدد بھی شامل ہے۔