پاکستانی بازارحصص میں گراوٹ کے اسباب ۔ری ایکشن،کریکشن یا دونوں؟

February 24, 2026 · امت خاص

 

پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 11 فیصد تنزلی نے اقتصادی فورمزپر بحث چھیڑدی ہے کہ اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرماہیں۔کچھ ہی دنوں میں انڈیکس نے انتہائی بلندی سے، جو 1لاکھ 90 ہزارکی سطح پر تھی ، 11 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی ہے۔ بعض تجزیہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہیں تو کچھ نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ری ایکشن کے علاوہ بھی ایک پہلوہے جسے مارکیٹ کی زبان میں کریکشن کہتے ہیں۔

 

رواں کاروباری ہفتے کے پہلے روز 5478 پوائنٹس کی گراوٹ تاریخ کی چوتھی اور رواں سال کی تیسری سب سے بڑی مندی تھی۔ کاروباری ہفتے کے دوسرے دن بھی منفی رجحان دیکھا گیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس کاروبار کے دوران 1613 پوائنٹس کی کمی کے بعد 1 لاکھ 66 ہزار 77 پوائنٹس پر آ یا۔

 

معاشی تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے جغرافیائی سیاست کی صورت حال کو قراردیاہے۔امریکہ ،ایران کشیدگی میں اضافے اور معاملات کا مثبت رخ پر نہ جانا بڑی وجہ سمجھی جارہی ہے۔ماہرین کے مطابق،اگر ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان پرگہرے اثرات پڑیں گے جس کی وجہ سے مارکیٹ نے ری ایکشن دکھایا ہے۔

 

ایک پہلو عالمی سیاست کےساتھ مقامی سیاست کا بھی بتایاجارہا ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ پاکستان میں سیاسی حالات ایک مرتبہ پھر کروٹ لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر سرکار کی تبدیلی کا ماحول بنتا دکھائی دے تومارکیٹ فورا ًاس کا اثر لیتی ہے۔

 

سرمایہ کاروں کی رائے میں یہ ایک مارکیٹ کرکشن ہے، یعنی بے انتہا اضافے کے بعد یہ حقیقی مالیاتی اندازوں کے قریب ہو رہی ہے۔ 11فیصد کی کمی محض ایک کرکشن ہے۔جون 2023 میں انڈیکس 40 ہزارپر تھی۔ اس وقت پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد مارکیٹ ایک تاریخی تیزی کے ساتھ تقریباً4اعشاریہ 7 گنا بڑھی۔اس عرصے کے دوران انڈیکس تین مرتبہ یعنی دسمبر 2023، مئی 2025، اور اب 10 فیصد سے زیادہ کی کرکشن سے گزر رہی ہے۔ پہلے دو بار جیسے ہی معاشی اور سیاسی استحکام برقرار رہا تو مارکیٹ نے بحالی دکھائی۔

 

اس خیال کے حامی کہتے ہیں کہ ہر کرکشن کو موقع سمجھنا چاہیے، گھبراہٹ کی وجہ نہیں۔

 

مارکیٹ ذرائع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ رہے گا تب تک مارکیٹ بھی دباؤ میں رہے گی۔