افغانستان کی طرف سے حالیہ دہشت گردی ریاست پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت اور کھلی جنگ ہے۔ حکومتی و عسکری ذرائع

February 25, 2026 · اہم خبریں

 

حکومت نے افغانستان کی طرف سے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے سلسلے کو کھلی جنگ قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے قافلے پر حملہ اور کانسٹیبلری کے جوانوں کو جلایا جانا، شکردرہ (کوہاٹ) میں DSP اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔

حکومتی اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان کے مُقدّس مہینے میں افغانستان سے ہونے والے یہ خودکش حملے اس امر کے عکاس ہیں کہ ان دہشت گردوں کا اسلام اور پختون روایات سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے نزدیک اپنے مذموم اور خودساختہ نظریات کی تکمیل کیلئے معصوم انسانی جانوں کی کوئی وقعت نہیں ۔
پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان افغانستان طالبان رجیم کی اس اعلانیہ جنگ کو مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے جواب دے گا۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز مکمل عوامی تائید سے اپنی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے والے ان تمام عناصر کی سرکوبی کیلئے یکسو اور متحد ہیں۔
ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور بھارت کی سرپرستی میں جاری اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔
قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کاتحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔ انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چائیے۔
ہماری سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ملک کی اندرونی اور بیرونی سرحدوں کے دفاع میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ان قربانیوں کے پیچھے پاکستانی قوم کی ان کیلئے لازوال محبت اور یکجہتی جیسے عناصر کار فرما ہیں۔
بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے ان مٹھی بھر دہشت گردوں کو پاکستانی قوم اور سیکورٹی ادارے باہمی اتحاد، قومی حمیت اور روایتی عزم سے شکست فاش دیں گے۔