افغان طالبان ملیشیا ہیں، نائن الیون جیسا بڑا سانحہ ہوسکتا ہے، ماہر افغان امور

پاک افغان امور ماہر اور سنئیر تجزنگار حسن خان نے کہا ہے کہ افغان طالبان ملیشیا ہیں وہ خود کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مجاہدین کہا جاتا ہے، کابل سے تشکیلیں ہوتی ہیں، اگر حالات ایسے ہی رہے تو نائن الیون جیسا سانحہ ہوسکتا ہے۔

امت ڈیجٹل سے گفتگو کرتے ہوئے حسن خان نے پاک افغان صورتحال اور تجارت بند ہونے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ پاکستان کا جو مؤقف ہے وہ کسی حد تک درست بھی ہے کہ روزانہ دہشت گرد آتے ہیں، دہشت گردی ہوتی ہے، 2025 میں تقریباً چار ہزار کے قریب سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں مسئلہ اس طرح حل نہیں ہوگا۔ افغانستان میں اگر دیکھیں تو وہاں باقاعدہ فارمل حکومت موجود نہیں ہے۔ جو لوگ برسرِاقتدار آئے ہیں وہ ایک ملیشیا ہیں۔ ان کی یہ ترجیح نہیں کہ افغانستان ترقی کرتا ہے یا نہیں، یا افغان عوام کیا سوچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جو کرتے ہیں، درست کرتے ہیں اور اس کا جواب ہم آخرت میں اللہ کو دیں گے۔ یعنی وہ خود کو افغان عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے، اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں جو ہو رہا ہے، ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم بھارت اور چین کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو دیکھیں تو وہاں عملی لڑائی کے باوجود تجارت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی تھی۔ یہاں ہمیں معاملات کو کنٹرول کرنا چاہیے تھا، لیکن مکمل بندش نے نقصان پہنچایا۔ یہ صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں کہ اتنا ٹیرف لگا یا اتنی برآمدات و درآمدات کم ہوئیں، بلکہ اس سے روزگار اور صدیوں پرانا تجارتی نظام متاثر ہوا

افغان طالبان ترجما ذبیح اللہ مجاہد کے اس دعوے کہ طالبان پاکستان کی پیداوار ہیں اور دو ہزار تین میں ان کی تشکیل میں پاکستان کا کردار تھا، حسن خان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ذبیح اللہ مجاہد کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ بھی کبھی اسی پاکستان سے وابستہ رہے ہیں، اور پاکستان نے اپنے مفاد اور قیمت پر انہیں سپورٹ کیا
ٹی ٹی پی ایک پاکستانی تنظیم ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اگر وہ آپ کے گھر میں ہیں میں موجود ہیں، آپ انہیں پناہ دے رہے ہیں، ٹریننگ دے رہے ہیں، مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں اور سہولتیں دے رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس کے اثرات ہوں گے۔

حسن خان نے کہاکہ افغان طالبان کی نظریاتی سمت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ افانستان میں ہر جمعے کے خطبات میں ٹی ٹی پی کو “مجاہدین” کہا جاتا ہے۔، کابل میں تشکیلیں ہوتی ہیں، ایسی صورتِ حال میں پاکستان کیسے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے ٹیکل کر سکتا ہے؟ اگر انہیں بارڈر کراس کرنے کی سہولت دی جا رہی ہو اور ان کی باقاعدہ تنظیمی رجسٹریشن کابل میں ہو رہی ہو تو پھر معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک نسبتاً آزاد معاشرہ ہے جہاں اختلافِ رائے کی گنجائش موجود ہے، لیکن افغانستان میں ایسی آزادی میسر نہیں۔ اگر یہ رویہ برقرار رہا تو خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ ماسکو میں حملہ ہوا، اور اس پر روس کا ردِعمل پوری دنیا نے دیکھا۔ اقوامِ متحدہ مسلسل رپورٹس دے رہی ہے کہ وہاں دہشت گرد نیٹ ورکس موجود ہیں، مگر ان الزامات کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اللہ نہ کرے، لیکن اگر حالات ایسے ہی رہے تو کہیں دو ہزار ایک جیسے کسی بڑے سانحے کا خطرہ دوبارہ نہ پیدا ہو جائے، جس کا خمیازہ پوری دنیا نے بھگتا تھا۔