ایران جنگ کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم قلت کا خدشہ،پمپ مالکان نے وارننگ دے دی

مشرقِ وسطیٰ میں بحران کے پیشِ نظر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مبینہ طور پر کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا

               
March 4, 2026 · اہم خبریں, قومی

 

آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نےوزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھا ہے جس میں ایندھن کی فراہمی میں تاخیر کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔خط کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران کے پیشِ نظر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مبینہ طور پر کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا ہے۔ وہ یا تو مصنوعات فراہم نہیں کر رہے یا انہوں نے سپلائی کو اس حد تک محدود کر دیا ہے کہ ضرورت بمشکل پوری ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں فیول اسٹیشنز خشک (خالی) ہو رہے ہیں۔

 

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آرڈرز دیے جاتے ہیں لیکن بعد میں انہیں منسوخ کر دیا جاتا ہے، تیل بردار لاریاں مصنوعات کے حصول کے بغیر کئی کئی گھنٹے پھنسی رہتی ہیں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ ہم موجودہ عالمی حالات کو سمجھتے ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں اعتماد میں لیا جائے اور پابندیاں لگانے سے قبل مناسب طریقے سے مطلع کیا جائے۔

 

پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ یہ مصنوعی قلت عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ تیل کمپنیاں کوئی بھی پابندی لگانے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنائیں۔ ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بہتر بنانے اور صارفین کے لیے تعطل کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

 

حکومت یا تیل کمپنیوں کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ تاہم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا کہنا ہے کہ اضافی ایندھن کی درآمد کے پیشگی اقدامات کے باعث ملک میں 28 دن کی کھپت کے لیے کافی ذخائر موجود ہیں۔