کیا واقعی کھانے کی چیزوں کی تاثیر ہوتی ہے

جسم کی حرارت بنیادی طور پر میٹابولزم، جسمانی سرگرمی اور خون کے بہاؤ کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے

               
March 5, 2026 · کائنات کے رنگ

جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کی چیزوں کی روایتی طور پر بیان کی جانے والی “گرم” یا “ٹھنڈی” تاثیر دراصل محض ثقافتی عقائد پر مبنی ہے اور اس کا جسمانی حرارت یا ٹھنڈک سے کوئی مستقل تعلق نہیں۔

نیوٹریشن جرنل اور دیگر سائنسی مطالعات کے مطابق لال مرچ، دودھ یا تربوز جیسے کھانے جسم میں حرارت یا ٹھنڈک پیدا نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق جسم کی حرارت بنیادی طور پر میٹابولزم، جسمانی سرگرمی اور خون کے بہاؤ کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے، نہ کہ کھانے کی “تاثیر” کی بنیاد پر۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ کھانے جسمانی ردعمل کو عارضی طور پر بدل سکتے ہیں، جیسے زیادہ مصالحہ کھانے سے پسینہ آنا یا پانی پینے سے جسم ٹھنڈا محسوس ہونا، لیکن یہ اثرات وقتی ہوتے ہیں اور کھانے کی “گرم” یا “ٹھنڈی” تاثیر سے مستقل تعلق نہیں رکھتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصورات صدیوں پرانے ہیں اور خاص طور پر طب یونانی اور روایتی طریقوں میں رائج ہیں، لیکن جدید غذائی سائنس میں ان کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔ کسی بھی کھانے کو گرم یا ٹھنڈی قرار دینا زیادہ تر ثقافتی عقیدہ پر مبنی ہے اور صرف اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ وہ میٹابولزم اور سمپیٹھیٹک نروس سسٹم کی سرگرمی کو وقتی طور پر کس حد تک متاثر کرتا ہے۔