انزائٹی کا بڑھتا مسئلہ:ماہرین نے وجوہات اور بچاؤ کے طریقے بتا دیے

یہ صرف ذہنی پریشانی نہیں بلکہ جسم پر بھی مختلف اثرات ڈال سکتی ہے۔

               
March 14, 2026 · کائنات کے رنگ

دنیا بھر کی طرح اب پاکستان میں بھی بے چینی یا انزائٹی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ صرف ذہنی پریشانی نہیں بلکہ جسم پر بھی مختلف اثرات ڈال سکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انزائٹی کے دوران دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی تھکن، توجہ مرکوز نہ کر پانا اور مسلسل فکر میں مبتلا رہنا جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ علامات روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرنے لگتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں زیادہ ذہنی دباؤ، غیر منظم طرزِ زندگی، موبائل اور سماجی رابطوں کے ذرائع کا حد سے زیادہ استعمال اور نیند کی کمی شامل ہیں۔ یہ عوامل آہستہ آہستہ ذہنی سکون کو متاثر کر کے بے چینی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

تحقیقی اداروں کے مطابق مناسب اور معیاری نیند انزائٹی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں مختلف عمر کے افراد کی نیند اور دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد بہتر اور مکمل نیند لیتے ہیں ان میں انزائٹی کی علامات نسبتاً کم ہوتی ہیں اور وہ ذہنی طور پر زیادہ پرسکون اور توجہ مرکوز رکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انزائٹی سے بچاؤ کے لیے روزمرہ عادات میں بہتری ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن اور صحت بخش خوراک، مثبت سوچ اور کام کے دوران وقفے لینا ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر لوگ اپنی نیند، خوراک اور روزمرہ زندگی کے معمولات کا خیال رکھیں تو انزائٹی کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔