کھلا دودھ زیادہ محفوظ ہے یا ڈبے اور پیکٹ میں ملنے والا دودھ

پاکستان میں سالانہ تقریباً 70 ارب لیٹر دودھ پیدا ہوتا ہے، جو یومیہ تقریباً 20 کروڑ لیٹر بنتا ہے۔

               
March 14, 2026 · کائنات کے رنگ

پاکستان میں صارفین کے درمیان یہ سوال اکثر زیرِ بحث رہتا ہے کہ کھلا دودھ زیادہ محفوظ ہے یا ڈبے اور پیکٹ میں ملنے والا دودھ۔ ماہرین کے مطابق اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ملک میں دودھ کی پیداوار اور سپلائی کے نظام کو دیکھنا ضروری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 70 ارب لیٹر دودھ پیدا ہوتا ہے، جو یومیہ تقریباً 20 کروڑ لیٹر بنتا ہے۔ تاہم مناسب سپلائی چین نہ ہونے کے باعث اندازاً 20 فیصد دودھ مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ڈبے یا پیکٹ کا دودھ فروخت کرنے والی کمپنیاں صرف تقریباً تین فیصد دودھ خود جمع کرتی ہیں، جبکہ باقی 97 فیصد دودھ براہ راست دیہی علاقوں سے گوالوں اور دودھیوں کے ذریعے بیکریوں، ہوٹلوں اور گھریلو صارفین تک پہنچتا ہے۔

دیہی علاقوں میں دودھ جمع کرنے والوں کے لیے دو اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ ڈھائی سو لیٹر سے کم دودھ اکٹھا کرنے والے کو “کچا دودھی” کہا جاتا ہے، جبکہ ایک ہزار لیٹر تک دودھ جمع کرکے مارکیٹ تک پہنچانے والے کو “پکا دودھی” کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے دودھ کی سب سے بڑی مشکل اسے محفوظ حالت میں شہروں تک پہنچانا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق اس عمل کو آسان بنانے کے لیے بعض اوقات دودھ میں مختلف کیمیکلز ملا دیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک کیمیکل فارمولین بھی شامل بتایا جاتا ہے جو عام طور پر حیاتیاتی نمونوں یا لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسی لیے کھلا دودھ خریدتے وقت اس کے ذرائع کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری جانب مارکیٹ میں دستیاب پیکٹ یا ڈبے کے دودھ کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں یو ایچ ٹی دودھ اور پاسچرائزڈ دودھ شامل ہیں۔ یو ایچ ٹی دودھ کو تقریباً 135 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کرکے فوری ٹھنڈا کیا جاتا ہے جس سے یہ کئی ماہ تک محفوظ رہ سکتا ہے، جبکہ پاسچرائزڈ دودھ کو تقریباً 72 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے اور یہ عام طور پر دس دن تک قابل استعمال رہتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض کمپنیاں ٹی وائٹنرز بھی فروخت کرتی ہیں۔ 2018 میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ان مصنوعات کے ڈبوں پر واضح طور پر لکھنا لازمی قرار دیا گیا کہ یہ دودھ نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو چاہیے کہ دودھ خریدتے وقت اس کے ماخذ اور قسم کے بارے میں آگاہی حاصل کریں تاکہ صحت کے حوالے سے بہتر فیصلہ کیا جا سکے۔