ناشتہ چھوڑنے سے ہارمونز متاثر ہونے کا انکشاف
مختلف طبی تحقیقات کے مطابق دن کا آغاز بغیر ناشتے کے کرنے سے جسم میں تناؤ اور توانائی کے نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صبح کا ناشتہ چھوڑنا صرف بھوک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے جسم کے اہم ہارمونز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقات کے مطابق دن کا آغاز بغیر ناشتے کے کرنے سے جسم میں تناؤ اور توانائی کے نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ نہ کرنے سے جسم میں تناؤ سے متعلق ہارمون کورٹیسول کی سطح غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں چڑچڑاپن، بے چینی اور بعض افراد میں دل کی دھڑکن تیز ہونے جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد باقاعدگی سے ناشتہ نہیں کرتے ان میں خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق انسولین اور بلڈ شوگر کے توازن میں خلل آنے سے دن کے دوران اچانک بھوک لگنا، توانائی میں کمی اور تھکن جیسی کیفیات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ناشتہ چھوڑنے سے بھوک کو کنٹرول کرنے والا ہارمون لیپٹن بھی متاثر ہو سکتا ہے، جس کے باعث بعض افراد دن بھر بار بار کچھ نہ کچھ کھانے کی خواہش محسوس کرتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ دن بھر ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے طبی ماہرین صبح کے ناشتے کو روزمرہ صحت مند طرز زندگی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔