کشمیری چوڑیوں کی مانگ کیوں بڑھ گئی؟ قیمت میں بھی بڑا اضافہ

مانگ زیادہ ہو تو دکاندار زیادہ منافع رکھنے لگتے ہیں۔تاجر موقع سے فائدہ اٹھارہے ہیں

               
March 17, 2026 · کائنات کے رنگ

کشمیری چوڑیاں

 

خوبصورت ڈیزائن اور دلکش رنگوں کے ساتھ کشمیری چوڑیاں خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں، جن کی قیمت چندروزپہلے تک ایک ہزار روپے سے 1500 تھی ،لیکن اب یہ 2ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

 

کشمیری چوڑیاں اس سال اچانک مہنگی نہیں ہوئیں بلکہ اس کے پیچھے کئی وجوہات ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔سب سے بڑی وجہ ٹرینڈ بننا ہے۔ جیسے ہی سوشل میڈیا پر کشمیری چوڑیوں کے خوبصورت ڈیزائنز وائرل ہوئے، ان کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ جب کسی چیز کی ڈیمانڈ تیزی سے بڑھتی ہے اور سپلائی محدود ہو، تو قیمتیں خود بخود اوپر چلی جاتی ہیں۔ یہی اس وقت ہو رہا ہے۔تاجروں کے مطابق اب یہ مہنگی آرہی ہیں۔

 

دوسری اہم وجہ عید الفطر کا سیزن ہے۔ اس موقع پر چوڑیاں خریدنا ایک روایت ہے، اور خواتین خاص طور پر نئے اور منفرد ڈیزائنز کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ اس سال چونکہ کشمیری چوڑیاں “فیشن آئٹم” بن گئی ہیں، اس لیے دکاندار بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

 

تیسری وجہ ری سیلنگ اور مارکیٹنگ ہے۔ اگرچہ یہ چوڑیاں بنیادی طور پر حیدرآباد میں تیار ہوتی ہیں، لیکن جب انہیں “کشمیری” نام دے کر دوسرے شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے تو ان کی perceived value بڑھ جاتی ہے، جس سے قیمت بھی بڑھا دی جاتی ہے۔

 

چوتھی وجہ ڈیزائن اور پریزنٹیشن ہے۔ ان چوڑیوں میں گلٹر، رنگین کام اور چھوٹے گھنٹیاں (گھنگھرو) شامل کیے گئے ہیں، جس سے وہ زیادہ دلکش لگتی ہیں حالانکہ کچھ صارفین کے مطابق اصل لاگت اتنی زیادہ نہیں۔

 

پانچویں وجہ ریٹیلر مارجن ہے۔ جب مانگ زیادہ ہو تو دکاندار زیادہ منافع رکھنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت 1000 سے بڑھ کر 1800 یا حتیٰ کہ 2000 روپے فی سیٹ تک پہنچ گئی ہے۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ خریداروں کا ماننا ہے کہ یہ چوڑیاں اصل میں اتنی مہنگی نہیں، بلکہ صرف سوشل میڈیاہائپ اور ٹرینڈ نے ان کی قیمت بڑھا دی ہے۔

 

کشمیری چوڑیاں حیدرآباد میں تیار کی جاتی ہیں، اس عید سیزن پر اسلام آباد کے بازاروں میں بھی پہنچی ہیں ۔یہ منفرد کاریگری،جاذب نظر رنگوں اور دلکش و روایتی ڈیزائنوں سے خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔

 

دکانداروں کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کی خواتین میں بھی کشمیری چوڑیوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ بہت سی خواتین نے اپنے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں پیچیدہ ڈیزائن اور چمکدار رنگ پسند ہیں جو عید کو بہت خاص بناتے ہیں۔ ایک خاتون کا کہناتھا کہ یہ چوڑیاں مجھے ان چوڑیوں کی یاد دلاتی ہیں جو میری والدہ پہنتی تھیں۔

ایک اور خاتون خریدار نے کہا کہ میں نے رواں سال چوڑیاں خود بنائی ہیں کیونکہ بازار کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں لیکن میں پھر بھی روایت سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں۔

ایک بچی نے کہا کہ میں کشمیری چوڑیوں کے بغیر عید نہیں مناؤں گی کیونکہ رواں سال ان کا ٹرینڈ ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں آنے والی ہر خاتون خریدار ان چوڑیوں کی مانگ کر رہی ہے جو انہیں اس عید پر سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اشیاء میں شامل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صبح سے شام تک خواتین کا ہجوم صرف رنگین کشمیری تخلیقات کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دکانوں پر ہوتاہے۔ سڑک کنارے بیٹھے دکانداروں نے بھی مانگ انتہائی زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا اور اعتراف کیا کہ اس سیزن میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔