پاکستان کے خلاف حالیہ حملوں میں استعمال ڈرونزکی بھارت سے افغان طالبان کو فراہمی کا انکشاف

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کابل میںشہری ہلاکتوں سے متعلق دعوں کو مسترد کردیا۔ یہ محض پراپیگنڈا ہے۔ ٹی وی پر گفتگو

               
March 18, 2026 · اہم خبریں, قومی

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

 

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل شریف احمد چوہدری کا کہناتھاکہ کابل میں واقع ایک ملٹری کیمپ 2021 سے افغان طالبان کے زیر استعمال ہے، جہاں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور خودکش حملہ آوروں کو رکھا جاتا رہا ہے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق حالیہ کارروائی میں اسی نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ حملے میں گولہ بارود، اسلحہ اور ڈرونز کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، اور اس دوران گائیڈڈ ہتھیاروں کاستعمال ہواتاکہ بغیر کسی اضافی نقصان کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پورے شہر میں اس کی آواز سنی گئی۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے شہری ہلاکتوں سے متعلق دعوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض پراپیگنڈا ہے، کیونکہ دہشت گرد عناصر اکثر سویلین لباس میں ہوتے ہیں جس سے ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فرق کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرونز بھارت کی جانب سے افغان طالبان کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے اندر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں 400 سویلین شہید ہوئے، 2026میں ماہانہ اوسط اموات 52 تک پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن غزب للحق کے دوران اب تک 707 دہشت گرد ہلاک اور 938 زخمی ہو چکے ہیں، اور دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو اپنے شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے اور دہشت گردوں کو کسی صورت ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔