ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کو باقاعدہ مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا،عراقچی

ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

               
March 26, 2026 · اہم خبریں

 تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کو باقاعدہ مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ پالیسی مزاحمت کو جاری رکھنے کی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جنگ بندی کے لیے تیار ہے اور مختلف ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ امریکی تجویز میں عارضی جنگ بندی، ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر پابندیاں، اور خطے میں سرگرمیوں کو محدود کرنے جیسے نکات شامل تھے۔

ایران نے ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں جنگ کے نقصانات کا ازالہ اور مستقل امن شامل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جائے تاکہ خطے کے تمام فریقوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باعث تیل کی عالمی سپلائی اور معاشی حالات پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ مختلف ممالک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔