پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم: ایرانی کمانڈر سے منسوب ٹویٹ ‘جعلی’ نکلی
پاکستان نے ایران کو "دھوکا" دیا ، یہ من گھڑت (Fake) ٹویٹ ہے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حالیہ خبروں اور مخصوص اکاؤنٹس سے پھیلائے جانے والے بیانیے کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ ایسے بیانیے شیئر کیے جا رہے ہیں جو حقائق کے منافی ہیں اور جن کا مقصد دوطرفہ تعلقات یا علاقائی صورتحال کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔
اعلامیے میں عوام اور میڈیا سے اپریل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ معلومات پر کان دھرنے کے بجائے صرف سفارت خانے کے آفیشل ہینڈلز اور سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں پر ہی بھروسہ کریں۔
قبل ازیں سوشل میڈیا جعلی خبروں کا بازار گرم ہے اور اندازا لگانا مشکل ہے کہ کون سی خبر حقیقت پر مبنی ہے اون کو سی خبر جعلی یعنی فیک نیوز ہے اسی طرحایک خبر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تصویر کے ساتھ زیر گردش ہے کہ پاکستان نے ایران کو “دھوکا” دیا ہے، یہ ایک من گھڑت (Fake) ٹویٹ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس مبینہ ٹویٹ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ‘سردار حسین نجات’ سے منسوب کیا گیا ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ایران کو “دھوکا” دیا ہے اور آبنائے ہرمز میں ان کے دشمنوں کے لیے تیل منتقل کیا ہے۔ ٹویٹ میں پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تصویر بھی استعمال کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سردار حسین نجات کا کوئی آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ نہیں ہے اور اس مبینہ ٹویٹ کے ٹیکسٹ میں گرامر کی واضح غلطیاں موجود ہیں، جو اس کے جعلی ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی غیر مصدقہ خبروں اور تصاویر پر یقین کرنے سے پہلے ان کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر 10 بڑے تیل بردار بحری جہازوں کو بلا تعطل آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ٹرمپ نے اسے ایک “بڑا تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران پس پردہ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے نوٹ کیا کہ یہ ٹینکرز پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے گزر رہے تھے، جو کہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور لاجسٹک کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹرمپ کے بقول ایران نے پہلے 8 جہازوں کی پیشکش کی تھی، لیکن بعد میں کسی بات پر معذرت کرتے ہوئے 2 مزید جہاز بھیج دیے، جس سے کل تعداد 10 ہو گئی۔
صدر نے کہامیں نے خبروں میں دیکھا کہ آبنائے ہرمز کے عین درمیان سے کچھ غیر معمولی گزر رہا ہے۔ یہ 8 بڑے جہاز تھے، اور میرا خیال ہے کہ وہ پاکستانی پرچم والے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر ماضی میں “سفارتی خیانت” کا الزام لگایا ہے، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث (Mediator) کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔