عاشرعظیم اور ڈاکٹرعائشہ صدیقہ کی سوشل میڈیاپر لفظی جنگ۔ایک دوسرے کو پھپھو کاخطاب دے دیا

کاش آپ نے بھی نوٹس رکھے ہوتے۔ب آپ کا رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔جوابی پوسٹ

               
March 28, 2026 · امت خاص

عاشر عظیم۔ عائشہ صدیقہ ، فائل فوٹوز

 

 

سکالر اور عسکری امور کی  تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نےسابق سول سروس افسر اور یوٹیوب چینل کے مالک عاشر عظیم گل پر جوابی طنزکرتے ہوئے کہا ہےکہ ہر فیملی میں نوٹس رکھنے والی ایک پھپھو ہوتی ہے، لیکن وہ خود اپنے پرانے بیانات کے نوٹس نہیں رکھتے۔

 

عائشہ صدیقہ نے یاد دلایا کہ عاشر عظیم نے ان سے اپنے یوٹیوب چینل پر انٹرویو میں پاکستان کی فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) پر الزامات لگائے تھے۔ اس وقت ان کا فوج سے ذاتی پراپرٹی کا تنازع بھی تھا۔ اب وہ فوج کے حامی بن چکے ہیں۔

عائشہ صدیقہ نے لکھاکہ کاش آپ نے بھی نوٹس رکھے ہوتے۔ب آپ کا رویہ تبدیل ہو گیا ہے۔ میں سکالر ہوں، میرا فوج سے کوئی کاروباری تنازع نہیں، صرف نوٹس رکھنے کا کام ہے۔ آپ نے کرپشن کے الزامات لگانے کے بعد ملک چھوڑ دیا۔

 

عائشہ صدیقہ نے یہ بھی اشارہ کیا کہ عاشر اب یا تو لالچ میں یا کسی اور وجہ سے فوج کے حامی بن گئے ہیں۔عائشہ صدیقہ نے یہ بھی کہا کہ عاشر عظیم ان کے بیچ میٹ ہیں اور وہ عام طور پر ان کی ’’سلی‘‘ باتوں کو نظر انداز کرتی رہیں، لیکن اب انہوں نے جواب دینا مناسب سمجھا۔

 

عاشر عظیم گل نےڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی ایک پوسٹ کے جواب میں طنزیہ انداز میں یہ ٹویٹ کیا تھاکہ ہر خاندان میں ایک شک کرنے والی پھوپھو ہوتی ہے جو سب کچھ نوٹ کرتی رہتی ہے۔

 

یہ ٹویٹ عائشہ صدیقہ کے ایک حالیہ تجزیے یا پوسٹ پر ان کے نوٹس رکھنے والے انداز پر طنز تھا۔ عاشر عظیم انہیں شک کرنے والی پھوپھوکہہ کر مذاق اڑا رہے تھے۔

عائشہ صدیقہ نےپہلے اپنی پوسٹ میں حکومت پر طنزیہ تبصرہ کیا تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اسلام آباد ابھی بہت مصروف ہے، ورنہ کسی کو اس ‘اسٹریٹیجک پارٹنر’ کی باتوں کا نوٹ کرنا چاہیے تھا۔

 

یہ تبصرہ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کی ایک پوسٹ کا کوٹ کر کے کیا گیاتھا۔