علی ظفر کیخلاف ہراسانی کا کیس میشا شفیع ہار گئیں
عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے (5 ملین) کا ہرجانہ عائد کر دیا ۔
فائل فوٹو
لاہور: پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے سب سے طویل اور ہائی پروفائل قانونی معرکے کا اختتام ہو گیا۔ لاہور کی سیشن عدالت نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے (5 ملین) کا ہرجانہ عائد کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے ابھی تک اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کے حوالے سے حتمی بیان جاری نہیں کیا ۔
ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ میشا شفیع علی ظفر پر لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں، جس سے علی ظفر کی شہرت کو نقصان پہنچا۔
عدالت نے میشا شفیع کو حکم دیا ہے کہ وہ علی ظفر کو پہنچنے والے ذہنی کرب اور ساکھ کے نقصان کے عوض 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں۔
یہ کیس 2018 سے زیرِ سماعت تھا، جس میں تقریباً 8 سال کے دوران 284 سماعتیں ہوئیں اور 9 مختلف جج تبدیل ہوئے۔
ٹرائل کے دوران دونوں جانب سے تقریباً 20 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
اپریل 2018 میں میشا شفیع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ علی ظفر کا موقف تھا کہ ان الزامات کے پیچھے ایک سوچی سمجھی مہم تھی جس کا مقصد ان کے کیریئر اور خاندانی زندگی کو تباہ کرنا تھا۔
اس کیس کے دوران میشا شفیع نے کئی بار ہراسانی کے الزامات کے تحت قانونی چارہ جوئی کی کوشش کی، تاہم محتسبِ پنجاب اور لاہور ہائیکورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر (آجر اور ملازم کا رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے) ان کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ سپریم کورٹ نے بعد ازاں ہراسانی کی تعریف میں وسعت لاتے ہوئے میشا شفیع کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور بھی کیا تھا، لیکن آج کا فیصلہ علی ظفر کے اس ہتکِ عزت کے دعوے پر ہے جو انہوں نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے دائر کیا تھا۔