سوشل میڈیا پر مہم ، سیشن جج دادو کا 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
سیشن جج کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ 'اے' سیکشن دادو کو باضابطہ مراسلہ جاری
فائل فوٹو
دادو:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دادو، زاہد حسین میتلو نے عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے اور توہین آمیز تبصرے کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
اس حوالے سے سیشن جج کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ ‘اے’ سیکشن دادو کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جج کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق چند شرپسند عناصر نے ایک فوجداری کیس (تہرے قتل کیس) کے فیصلے کے بعد عدلیہ اور جوڈیشل افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر مہم شروع کر رکھی ہے۔
جج کے مطابق ان افراد نے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس اپ لوڈ کیں جن میں عدلیہ اور اس کے ممبران کے خلاف جھوٹے، توہین آمیز اور بدنیتی پر مبنی الزامات لگائے گئے ہیں۔
مراسلے میں واضح کیا گیا کہ جس فیصلے کو بنیاد بنا کر تنقید کی جا رہی ہے، وہ فیصلہ موجودہ سیشن جج نے خود نہیں سنایا تھا، اس کے باوجود انہیں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
سیشن جج نے ریاست کی مدعیت میں کل 11 افراد/فیس بک اکاؤنٹس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں خالد حسین کھہڑو (رپورٹر دھرتی ٹی وی نیوز) ،شاکر مسرور مہیسر، سجاد علی لغاری ، علی اکبر شورو ، ثاقب رحمان ، نعمان پنہور ،آصف علی سندھی ، کامریڈ فرحان کھوسو، دیشی دریا خان جتوئی ، عابد لاشاری اور حسنین رضا بھٹی شامل ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ یہ فعل بادی النظر میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی متعلقہ دفعات اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (PECA) کے تحت سنگین جرم ہے۔ جج نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی کاپی عدالت میں جمع کرائی جائے، جبکہ ثبوت کے طور پر متعلقہ پوسٹس کے اسکرین شاٹس بھی پولیس کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔