غیر قانونی رہائش پذیر افغان خاندانوں کو واپسی کی اجازت
آج مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 451 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، ذرائع
فوٹو امت
خیبر : پاکستان میں پھنسے ہوئے غیر قانونی رہائش پذیر افغان خاندانوں کو واپسی کی اجازت، 451 افراد ڈی پورٹ کر دیے گئے۔
حکومت پاکستان نے پھنسے ہوئے افغان خاندانوں کو طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس جانے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد سینکڑوں ٹرک طورخم پہنچ گئے ہیں۔
کسٹم ذرائع کے مطابق گاڑیوں کی کلئیرنس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور مرحلہ وار کلئیرنس کے بعد ٹرکوں کو افغانستان داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے،ذرائع کے مطابق حمزہ بابا مزار میں قائم افغان مہاجرین کے ہولڈنگ کیمپ میں سینکڑوں گاڑیاں داخل ہوئیں جن میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے، جہاں رجسٹریشن کے بعد انہیں فلائنگ کوچز کے ذریعے طورخم بارڈر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ سامان بردار ٹرک الگ طورخم سیکٹر میں کلئیرنس کے بعد افغانستان روانہ کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ گاڑیاں جو افغان مہاجرین کو افغانستان چھوڑ کر واپس آ رہی تھیں، انہیں بھی آج پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب یکم اپریل 2026 کو مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 451 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں 304 مرد، 55 خواتین اور 92 بچے شامل ہیں، جبکہ کسی کے پاس بھی POR یا ACC کارڈ موجود نہیں تھا۔
ڈی پورٹ ہونے والوں میں ضلع سرگودھا سے 19، ساہیوال سے 4، میرپور خاص (آزاد کشمیر) سے 15، گجرانوالہ سے 79 (35 مرد، 18 خواتین، 26 بچے)، مظفر آباد (آزاد کشمیر) سے 31 (19 مرد، 6 خواتین، 6 بچے)، پشاور جمعہ خان کیمپ سے 9، خوشاب سے 17 (12 مرد، 4 خواتین، ایک بچہ)، پشاور سنٹرل جیل سے 157 اور رحیم یار خان سے 120 افراد شامل ہیں۔
حکام کے مطابق طورخم بارڈر پر واپسی اور ڈی پورٹیشن کا عمل بدستور جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید افراد کو بھی مرحلہ وار افغانستان منتقل کیا جائے گا۔