بیجنگ کے شہر ارمچی میں پاک افغان مذاکرات سکیورٹی اور تجارت پر اہم پیشرفت
مذاکرات میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، سرحدی راستوں کی بہتری اور کسٹمز تعاون کو بڑھانے پر بھی زور دیا گیا
بیجنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم مذاکرات چین کی میزبانی میں مکمل ہو گئے جس میں سکیورٹی، دہشتگردی اور دوطرفہ تجارت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں چین نے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جو سکیورٹی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نکات کی نگرانی اور معاونت کرے گا
پاکستانی وفد نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں موجودگی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے مؤثر اقدامات اور جوابدہی پر زور دیا
افغان طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس حوالے سے تحریری ضمانت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی
تاہم افغان طالبان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو کنٹرول کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا
اقتصادی محاذ پر پیشرفت کرتے ہوئے پاکستان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغان مطالبات کے مطابق سرحدی گزرگاہوں کو تجارت اور کاروبار کیلئے بند نہیں کیا جائے گا
تاکہ علاقائی روابط اور معاشی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے
مذاکرات میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، سرحدی راستوں کی بہتری اور کسٹمز تعاون کو بڑھانے پر بھی زور دیا گیا،
جبکہ چینی حکام نے خطے میں استحکام کیلئے مذاکرات کے تسلسل اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی
ماہرین کے مطابق چین کا بڑھتا ہوا کردار خطے میں استحکام اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے تحفظ کیلئے اہم قرار دیا جا رہا ہے
اگرچہ پیشرفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہمیشہ کی طرح پیچیدہ اور حساس سفارتی عمل رہے ہیں
، اور دونوں ممالک کو سکیورٹی اور خودمختاری کے چیلنجز درپیش ہیں۔