اسکردو میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران ’غفلت برتنے والے‘ 18 پولیس اہلکار برطرف
کمیشن نے شواہد، جانی و مالی نقصانات اور واقعات کے اسباب و عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لیا، ترجمان حکومت
فائل فوٹو
اسکردو: گلگت بلتستان کے شہروں گلگت اور اسکردو میں مارچ کے آغاز میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں پر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں غفلت برتنے کے الزام میں 18 پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں کے علاوہ اس کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں بھی توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے تھے۔
بلتستان پولیس کی قائم کردہ ایک انکوائری رپورٹ کے بعد اسکردو پولیس کے مجموعی طور پر 18 اہلکاروں کو فرائض میں غفلت کا مرتکب پا کر ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔
ترجمان حکو مت کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات میں سکردو اور گلگت میں سرکاری املاک کے علاوہ فوج کے زیرِ انتظام عمارتوں کا گھیراؤ اور جلاؤ کیا گیا اور انھیں نذرِ آتش کیا گیا۔ اس پر گلگت بلتستان حکومت نے عدالتی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی انکوائری کمیشن کی سربراہی جسٹس ملک عنایت الرحمٰن کر رہے ہیں اور ارکان میں جسٹس جوہر علی اور جسٹس جہانزیب خان شامل ہیں۔ اس کمیشن نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔
ان کے مطابق کمیشن نے شواہد، جانی و مالی نقصانات اور واقعات کے اسباب و عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے پیش ہو کر امن و امان کی صورتِ حال، سکیورٹی اقدامات اور واقعے کی ترتیب پر اپنے بیانات قلم بند کروائے۔ اس کے علاوہ تقریباً 10 شہریوں کو بھی بیانات ریکارڈ کروانے کی اجازت دی گئی تاکہ مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔
شبیر میر کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن اپنی تمام تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گا جس کے بعد مزید کارروائی ہوگی۔ جبکہ گلگت بلتستان پولیس نے اپنے احتسابی نظام کے تحت ایک اندرونی انکوائری کروائی ہے جس میں بلتستان پولیس نے اپنی انکوائری کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے 18 پولیس اہلکاروں کو ملازمتوں سے برخاست کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملازمتوں سے برطرفی کی سزا پانے والوں میں ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر، ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل شامل ہیں۔ ریجنل پولیس آفس بلتستان نے ملازمتوں سے برخاست کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے تاہم یہ پولیس اہلکار انسپکٹر جنرل آف پولیس سے اپیل کا حق رکھتے ہیں۔