سندھ حکومت کا موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 2ہزار روپے دینے کا فیصلہ
دو سے تین روز میں ایپلیکیشن کام کرے گی ، شناختی کارڈ پر موٹر سائیکل رجسٹر ہوگی، مالکان15دن میں موٹر سائیکل اپنے نام پر منتقل کروائیں ، مراد علی شاہ
فائل فوٹو
کراچی: توانائی بحران کے بعد پیٹرول مہنگا ہونے کے باعث سندھ حکومت نے صوبے میں موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 2ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پیٹرول پمپ پر کم ریٹ میں نہیں ملیں گے اس لیے ہر موٹر سائیکل والے کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیں گے، دو سے تین روز میں ایپلیکیشن کام کرے گی اور شناختی کارڈ پر موٹر سائیکل رجسٹر ہوگی، مالکان15دن میں موٹر سائیکل اپنے نام پر منتقل کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ آج سے ہم موٹر سائیکل کی ٹرانسفر مفت کر رہے ہیں، جو بھی موٹر سائیکل والے ہیں اپنے نام ٹرانسفر کروائیں، ایک سو روپے ایک لیٹر پر ہم سبسڈی کی رقم دیں گے، آج سے 15 دن بعد ہم رقم ٹرانسفر کر دیں گے اور 2 ہزار روپے ہر موٹر سائیکل والے کو ٹرانسفر کریں گے۔
ادھر اے آر وائے نیوز کا کہنا ہے کہ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 70 سی سی موٹرسائیکل اور آٹو رکشے پر سبسڈی دی جائے گی ، وزارت آئی ٹی کے تعاون سے ایپ کے ذریعے موٹرسائیکل کی رجسٹریشن ہوگی، رجسٹرڈ موٹرسائیکل اور رکشے کو ماہانہ 20 لٹر پر فی لٹر 100 روپے کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی ۔ غیر رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں پر اطلاق نہیں ہوگا، اسی طرح 70cc سے بڑی موٹرسائیکلوں پر بھی اطلاق نہیں ہوگا,سبسڈی کے لیے موبائل اپلی کیشن تیار کرلی گئی ہے.
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی موٹر سائیکل کو چیک کر سکتے ہیں، 15 دن کے بعد ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل والے کو 2 ہزار روپے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشت کار کو سپورٹ کیا گیا ہے، ہم نے گندم کی قیمت بھی 3500 روپے فی من مقرر کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت بڑھ گئی جس سے کاشت کار کو نقصان ہوگا، 20 لاکھ ایکڑ چھوٹے کاشت کار کے پاس ہے اس لیے 1500 روپے فی ایکڑ پر ہم ان کاشت کاروں کو فراہم کریں گے اور پیر سے 1500 روپے فی ایکڑ ٹرانسفر کرنا شروع کریں گے جبکہ بڑے زمینداروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ عمل صوبے خود کریں گے، تیسری تجویز پر بہت بحث ہوئی اور ایک ماہ کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاق اس بات پر عمل کرے گا اور پیسے صوبے دیں گے، یہ ٹارگٹڈ سبسڈی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ، 70 ہزار اور 80 ہزار مہینہ سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حتمی طور پر 4 کمپوننٹ طے ہوئے، دو کمپوننٹس ایڈمنسٹریٹر صوبوں نے کرنے ہیں اور ایک کمپوننٹ وفاق نے کرنا ہے مگر رقم صوبے ادا کریں گے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا صوبوں کا خیال تھا کہ موٹر سائیکل چلانے والوں کو رعایت دی جائے اور 6.7 ملین موٹر سائیکلیں سندھ میں رجسٹرڈ ہیں، موٹر سائیکل اصل مالک کے نام پر نہیں ہے، ہم نے کہا کہ 100 روپے فی موٹر سائیکل والے کو دیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ قیمتیں نہیں بڑھیں گی تو قرضے چڑھیں گے، پھر یہ فیصلہ ہوا کہ جو زیادہ متاثر ہو رہے ان کو سبسڈی دی جائے، کل چھ سات گھنٹے طویل میٹنگ ہوئی۔