چاند پر بجلی بنا کر زمین پر لے آئیں گے۔ جاپان کا منصوبہ

خلا میںسولر پینلزکی ایک وسیع پٹی تعمیرکی جائے گی۔اس کو ’’لونا رنگ‘‘(Luna Ring) کا نام دیا گیا ہے

               
April 6, 2026 · امت خاص, چشم حیرت

لونا رنگ۔ تصویر: شیمیزو کارپوریشن

 

ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل، جاپان کی ایک تعمیراتی کمپنی نے چاند کے خطِ استوا کے گرد شمسی پینلز (سولر پینلز) کی ایک وسیع پٹی تعمیر کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس تصور کو ’’لونا رنگ‘‘(Luna Ring) کا نام دیا گیا ہے، جو6ہزار800میل تک پھیلی ہوگی اور زمین پر نصب پینلز کو درپیش موسم کی خرابی یا اندھیرے جیسے مسائل کے بغیر مسلسل شمسی توانائی پیدا کرنے کے قابل بنائے گی۔ شروع میں اس منصوبے پر کم توجہ دی گئی، لیکن مارچ 2011 میں فوکوشیما ڈائیچی ایٹمی حادثے کے بعد، جاپان میں توانائی کے متبادل ذرائع میں اچانک دلچسپی بڑھ گئی۔

 

اس تجویز کے پیچھے موجود کمپنی، شیمیزو کارپوریشن (Shimizu Corporation) کا دعویٰ ہے کہ زمین پر نصب سولر پینلز خلا میں نصب اسی حجم کے پینلز کے مقابلے میں صرف بیسواں حصہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ چاند کے خطِ استوا پر سورج کی روشنی کو روکنے کے لیے نہ تو کرہ ہوائی ہے، نہ بادل اور نہ روشن حصے پر رات ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ نظام چوبیس گھنٹے مسلسل کام کر سکتا ہے۔

 

شیمیزو کے اسپیس کنسلٹنگ گروپ سی ایس پی جاپان کے صدر ٹیٹسوجی یوشیدا نےبتایا کہ اگر چاند کے پینلز سے حاصل ہونے والی تمام توانائی زمین تک پہنچ جائے، تو پھر کبھی کوئلہ، تیل یا بائیو ماس جلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

لونا رنگ زمین پر شمسی توانائی کے ایک بنیادی مسئلے یعنی تسلسل کے فقدان (intermittency) کو حل کرتا ہے۔

 

زمین پر سولر فارمز رات کے وقت بجلی بنانا بند کر دیتے ہیں اور ابر آلود موسم میں ان کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے، لیکن چاند پر کرہ ہوائی نہ ہونے کی وجہ سے سورج کی شعاعوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔ چاند کے خطِ استوا کا کوئی نہ کوئی حصہ ہمیشہ سورج کی روشنی میں نہایا رہتا ہے، جس سے حقیقی معنوں میں 24 گھنٹے بجلی کی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔

 

توانائی کی منتقلی کا طریقہ کار کچھ یوں ہوگا۔ چاند کے خطِ استوا پر موجود سولر سیلز سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کریں گے، اور وہاں نصب کیبلز اس بجلی کو چاند کے اس حصے (Near Side) تک لے جائیں گی جو ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے۔ وہاں ٹرانسمیشن کی سہولیات اس بجلی کو مائیکرو ویو شعاعوں اور ہائی انرجی لیزرز میں تبدیل کریں گی جن کا رخ زمین پر موجود ریسیونگ اسٹیشنز کی طرف ہوگا۔

 

زمین پر نصب مخصوص انٹینا، جنہیںریکٹینا (rectennas) کہا جاتا ہے، ان مائیکرو ویوز کو پکڑ کر دوبارہ بجلی میں تبدیل کر دیں گے تاکہ اسے پاور گرڈ میں شامل کیا جا سکے۔

 

شیمیزو کی تجاویز کے مطابق، اس نظام کے ذریعے حاصل ہونے والی توانائی کو ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کے لیے ہائیڈروجن ایندھن بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا حتمی مقصد فوسل فیول (تیل، گیس وغیرہ) سے مکمل چھٹکارا حاصل کر کے ایک ہائیڈروجن پر مبنی معاشرے کی طرف منتقل ہونا ہے۔

 

چاند پر کسی بھی چیز کی تعمیر غیر معمولی طور پر مشکل ہے، اس لیے شیمیزو (Shimizu) کا منصوبہ ہے کہ وہ تقریباً مکمل طور پر روبوٹس پر انحصار کرے۔ یہ مشینیں زمین سے چوبیس گھنٹے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلائی جائیں گی، جو زمین کو ہموار کرنے، چاند کی سطح کی کھدائی اور آلات کی تنصیب جیسے کام انجام دیں گی۔ خلا بازوں کی ایک چھوٹی ٹیم وہاں موجود روبوٹس کی مدد کرے گی، لیکن انسانوں کا کردار ثانوی ہوگا۔

 

تعمیراتی کام میں زیادہ سے زیادہ چاند کے قدرتی وسائل استعمال کیے جائیں گے تاکہ زمین سے سامان لانے کی ضرورت کم ہو۔

 

چاند کی مٹی ایک آکسائیڈ مرکب ہے، اور زمین سے ہائیڈروجن درآمد کر کے کارکن چاند کی سطح سے پانی اور آکسیجن تیار کر سکیں گے۔ اسی مٹی کو کنکریٹ، سیرامکس، شیشے کے ریشوں (glass fibers) اور یہاں تک کہ خود سولر سیلز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

 

شیمیزو کی تجویز میں ایسے متحرک پیداواری پلانٹس شامل ہیں جو چاند کے خطِ استوا کے ساتھ ساتھ حرکت کریں گے، مقامی مواد سے سولر سیلز بنائیں گے اور انہیں ساتھ ساتھ نصب کرتے جائیں گے۔ یہ سولر بیلٹ چند کلومیٹر سے لے کر اپنے چوڑے ترین مقام پر 400 کلومیٹر تک وسیع ہوگی، جو چاند کے پورے گھیراؤ کو لپیٹ میں لے لے گی۔ خطِ استوا کے ساتھ ساتھ ایک نقل و حمل کا راستہ تعمیراتی سامان لے جائے گا، جس کے نیچے بجلی کی تاریں دبی ہوں گی۔

 

لونا رنگ منصوبے کو ایک بہت بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے: یعنی پیسہ۔ جاپان کے انسٹی ٹیوٹ آف انرجی اکنامکس کے ایک ماہرِ معاشیات، مسانوری کوموری کے مطابق چاند سے شمسی توانائی کا حصول نظریہ کی حد تک تو اچھا لگتا ہے لیکن اس پر لاگت بہت زیادہ آتی ہے۔خود یوشیدا نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس اس منصوبے کی لاگت کا کوئی حتمی تخمینہ نہیں مطلوبہ ٹیکنالوجی اب بھی تحقیقی مراحل میں ہے۔

 

فوکوشیما حادثے اور جاپان کی 30 فیصد توانائی کی ضرورت پوری کرنے والے 54 ایٹمی ری ایکٹرز میں سے نصف سے زیادہ کے بند ہونے کے بعد، جاپانی عوام اور حکومت غیر معمولی متبادلات پر غور کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ یوشیدا نے نوٹ کیا کہ ان کا منصوبہ ایک سال سے خاموشی کا شکار تھا، لیکن مارچ 2011 کے زلزلے اور سونامی کے بعد اسے اچانک توجہ ملی۔

 

شیمیزو کی جانب سے کسی عوامی اپ ڈیٹ نے اس منصوبے کو تجویزی مرحلے سے آگے نہیں بڑھایا۔ تاہم یوشیدا پرامید ہیں، انہوں کہا کہ ان کی ٹیم صرف موجودہ وسائل یعنی سورج کی روشنی، سولر پینلز، مائیکرو ویوز اور لیزرز کا استعمال کر رہی ہے۔ اگر ہم تحقیق جاری رکھ سکیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ اس کے حقیقت بننے کا ایک بہت بڑا موقع موجود ہے۔